سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 900

سیر روحانی — Page 23

۲۳ حقیقت یہ ہے کہ یہاں اَزْوَاجاً سے مراد اقسام ہیں نہ کہ مرد وعورت ، ورنہ نطفہ تو ہوتا ہی زوج کے وقت سے ہے اور اس کی تصدیق اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ زوج کے معنے عربی زبان میں صنف کے بھی ہوتے ہیں اور یہی معنے اس جگہ مراد ہیں ، پس اَزْوَاجًا سے مراد اَصْنَافًا ہیں نہ کہ مرد و عورت اور مطلب یہ ہے کہ جب تمہاری دماغی ترقی ہوئی تو تم میں مختلف قسم کے گروہ پیدا کی ہو گئے اور پارٹیاں بنی شروع ہو گئیں غرض اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ پہلے انسان خرابی حالت میں تھا یعنی جمادی حالت میں پھر اس پر ایک زمانہ آیا ( درمیانی زمانہ کا ذکر اس جگہ چھوڑ دیا ہے ) کہ وہ حیوانی صورت اختیار کر گیا اور مرد و عورت سے اس کی پیدائش ہونے لگی ( پھر درمیانی زمانہ کا ذکر چھوڑ دیا ہے ) پھر وہ زمانہ آیا کہ وہ ترقی کر کے تمدنی صورت اختیار کر گیا اور باقاعدہ ایک نظام میں منسلک ہو گیا۔اسی طرح درمیانی کڑیوں میں سے ایک کڑی طینی حالت بھی ہے جب کہ شراب سے پانی ملا، چنا نچہ حیات انسانی کا مادہ پانی ہونے کے متعلق فرماتا ہے وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيَ اَفَلَا يُؤْمِنُونَ ۵ کہ کیا تمہیں معلوم نہیں ہم نے ہر چیز کو پانی سے زندگی بخشی ہے اگر پانی نہ ہوتا تو حیات انسانی کا مادہ بھی پیدا نہ ہوتا، پھر یہ کڑی کہ پانی مٹی سے ملا اور اس سے پیدائش ہوئی اس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِ نُسَانِ مِنْ طِينِ ) کہ خدا نے انسان کو طین سے پیدا کیا۔گویا پانی اور مٹی باہم ملائے گئے اور ان دونوں کے ملانے سے جو حالت پیدا ہوئی اس کے نتیجہ میں زندگی کا ذرہ پیدا ہوا اور ترقی کرتے کرتے انسان اپنے معراج کمال کو پہنچ گیا۔اس بات کا ثبوت کہ کڑیاں درمیان سے حذف بھی کر دی جاتی ہیں اس بات سے ملتا ہے کہ اوپر کی آیت میں بتایا ہے کہ انسان کی پیدائش اول طین سے ہوئی اس کے بعد فرماتا ہے۔ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِنْ سُللَةٍ مِّنْ مَّاءٍ مَّهِيْنِ که پیدائش ثانی طین سے نہیں بلکہ مَاءٍ مَّهِينٍ یعنی نطفہ سے ہوئی ہے اور ہم نے بجائے مٹی اور پانی کے نسل انسانی کے لئے نطفہ کا سلسلہ جاری کر دیا۔جیسا کہ ایک اور موقع پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَلَمْ نَخْلُقُكُمْ مِّنْ مَّاءٍ مَّهِينٍ۔فَجَعَلْنَهُ فِي قَرَارٍ مَّكِيْنِ إِلَی قَدَرٍ مَّعْلُومٍ 11 یعنی کیا ہم نے تم کو ایک کمزور اور حقیر پانی کی بوند سے پیدا نہیں کیا اور پھر اس کمزور اور حقیر بوند کو ایک قرار وثبات کی جگہ میں ایک زمانہ تک رکھ کر پیدا نہیں کیا ؟ پس صاف معلوم ہو گیا کہ مٹی کی حالت ایک وقت کی تھی پھر وہ وقت آیا جب کہ مٹی اور پانی