سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 900

سیر روحانی — Page 24

۲۴ ملایا گیا، مگر نسل انسانی جو پیدا ہوئی ہے یہ مٹی سے نہیں بلکہ نطفہ سے ہوئی ہے پس مٹی والا زمانہ اور ہے پانی والا زمانہ اور ہےاور نطفے والا زمانہ اور ہے۔پیدائشِ انسانی کے متعلق عام قرآنی اصول پھر عام اصول پیدائش کا قرآن کریم نے یہ بتایا کہ وَاَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنْتَهى۔وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى وَأَنَّهُ هُوَاَمَاتَ وَاَحْيى۔وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْا نُثَى۔نُّطْفَةٍ إِذَا تُمْنى۔وَ أَنَّ عَلَيْهِ النَّشَاةَ الأخرى 19 که دیکھو تمہاری ابتداء خدا سے ہوئی اور تمہاری انتہاء بھی خدا تک جاتی ہے تمہاری حالت ایسی ہی ہے جیسے قوس کے درمیان وتر ہوتا ہے جس طرح کمان کو خم دیدیا جائے تو اس کے دونوں اطراف آپس میں مل جاتے ہیں۔اسی طرح اگر تم اپنی پیدائش کی طرف چلتے چلے جاؤا اور دیکھو کہ تم کس طرح پیدا ہوئے تو تمہیں ایک خدا اس تمام خلق کے پیچھے نظر آئے گا۔اور اگر تم دیکھو کہ مرنے کے بعد انسان کہاں جاتا ہے تو وہاں بھی تمہیں خدا ہی دکھائی دے گا، گویا انسان کی پیدائش بھی خدا تعالیٰ سے شروع ہوتی ہے اور اس کی انتہا بھی خدا تعالیٰ پر ہے اور بار یک در باریک ہوتے ہوئے آخر خدا تعالیٰ پر سبپ اولی ختم ہو جاتا ہے۔یہ اوپر کی آیات جو میں نے پڑھی ہیں ان سے یہ نتائج نکلتے ہیں کہ : - (۱) انسان مادہ ازلی نہیں ہے بلکہ وہ خدا تعالیٰ کے ہاتھوں سے پیدا کیا گیا ہے۔(۲) دوسرے یہ کہ انسان کی پیدائش ارتقاء سے ہوئی ہے یہ نہیں ہوا کہ وہ یکدم پیدا ہو گیا۔(۳) تیسرے یہ کہ انسان ، انسان کی حیثیت سے ہی پیدا کیا گیا ہے۔یہ خیال صحیح نہیں کہ بندروں کی کسی قسم سے ترقی کر کے انسان بنا جیسا کہ ڈارون کہتا ہے۔(۴) چوتھے یہ کہ پہلے وہ جمادی دور سے گزرا ہے یعنی ایسی حالت سے جو جمادات والی حالت تھی۔(۵) پانچویں یہ کہ اس کے بعد وہ حیوانی حالت میں آیا جب کہ اس میں زندگی پیدا ہوگئی تھی ، لیکن ابھی اس میں عقل پیدا نہ ہوئی تھی۔وہ جانوروں کی طرح چلتا پھرتا اور کھا تا پیتا تھا۔(۶) اس کے بعد اس میں عقل پیدا ہوئی اور وہ حیوانِ ناطق ہو گیا مگر ابھی چونکہ اس میں کچھ کسر باقی تھی اس لئے پھر (۷) اُس نے اور زیادہ ترقی کی اور وہ اس حالت سے بڑھ کر متمدن انسان ہو گیا جس کا اشارہ اللہ تعالیٰ نے ثُمَّ جَعَلَكُمُ اَزْوَاجًات میں کیا ہے یعنی انفرادی ترقی کی جگہ نظام