سیر روحانی — Page 416
۴۱۶ چاہتی ہیں۔ایک کہتی ہے امراء میرے بیٹے کی طرف ہو جائیں اور دوسری کہتی ہے کہ میرے بیٹے کی طرف ہو جائیں۔غدر کا سارا جھگڑا اسی وجہ سے ہوا کہ بعض بیگمات کہتی تھیں ہمارا بیٹا تخت نشین ہو جائے اور دوسری کہتی تھیں ہمارا ہو جائے۔ظاہر میں بادشاہ کی خدمت کا دعویٰ ہوتا تھا لیکن باطن میں کسی خاص شہزادہ یا ملکہ کی امداد کا دم بھر رہے ہوتے تھے اور پھر ایک دوسرے کے خلاف بادشاہ کے کان بھرتے تھے۔قربانی اور اخلاص کی قدر نہیں ہوتی تھی خوشامد اور جھوٹ کی قدر ہوتی تھی یا بعض دفعہ کوئی جابر امیر بادشاہ پر حاوی ہو جاتا تھا اور درباریوں کو اسے خوش کرنے کی فکر رہتی لیکن قرآن کے دربار خاص میں یہ باتیں نہیں وہاں نہ کوئی بیٹا ہے نہ بیوی ، نہ کوئی جابر حاکم ہے بلکہ خالص خدا ہے جس کی نہ چُغلی کی جاسکتی ہے نہ غیبت کی جاسکتی ہے نہ کسی اور کو خوش کرنے کے لئے اس سے مداہنت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ہمیشہ زندہ اور قائم رہنے والا بادشاہ پھر دنیوی بادشاہوں کی اولاد ان کی موت کی متمنی ہوتی تھی اور چاہتی تھی کہ یہ مریں تو ہم بادشاہ ہو جائیں اور کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ بادشاہ ایک شخص کو کوئی عہدہ دیتا تھا لیکن دوسرے دن بادشاہ فوت ہو جاتا۔اس کے بعد اس کا بیٹا تخت نشین ہوتا اور وہ اسے ذلیل کر دیتا لیکن ہمارے در بار خاص میں بیٹھنے والا بادشاہ فرماتا ہے۔الله لا إله إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ٣ تمہارا بادشاہ وہ ہے جو زندہ ہے کبھی مرنے والا نہیں اس لئے تم کو ڈرنا نہیں چاہئے اس کی طرف سے جوڑ تبہ تمہیں ملے گا اُسے کوئی چھینے گا نہیں۔دنیوی خطابات کا انجام دیکھو انگریزوں نے لوگوں کو خطابات دیئے تھے مگر اب ہندوستان اور پاکستان میں روزانہ اعلان ہوتے ہیں کہ ہم ان خطابات کو چھوڑتے ہیں۔صرف چند ڈھیٹ ابھی تک ہندوستان میں بھی اور پاکستان میں بھی ایسے ہیں جو ان خطابوں سے چھٹے بیٹھے ہیں ورنہ باقی سب اپنی اپنی قوم کو خوش کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں کہ میں نے ” خان بہادر کا خطاب چھوڑا، میں نے فلاں خطاب چھوڑا، میں نے جی سی۔آئی۔ای“ کا خطاب چھوڑا میں نے فلاں خطاب چھوڑا یہ سب لعنتی ہیں۔پہلے انہی خطابوں کے لئے خوشامدیں کرتے پھرتے تھے اور اب لعنتی چیزیں بن گئیں کیونکہ بادشاہت بدل گئی یا بادشاہ کی جگہ اس کا بیٹا آ گیا تو پھر بیٹے کی پارٹی برسر اقتدار آ جاتی ہے اور چیزیں