سیر روحانی — Page 375
۳۷۵ ہوتا ہے ہماری طاقت اس میں ہے کہ ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ باتیں بتائی ہیں جو نہایت اعلیٰ درجہ کی ہیں اور جنہیں ہر فطرت صحیحہ قبول کرتی ہے ان کے لئے نہ کسی فوج کی ضرورت ہے نہ دشمن سے لڑائی کی ضرورت ہے یہ لوگ آپ ہی تباہ و برباد ہو جائیں گے۔اسلام کی اشاعت اس کی اعلیٰ چنانچہ دیکھ لو اسلام نے تلوار کے زور سے فتح نہیں پائی بلکہ اسلام نے اس اعلیٰ تعلیم کے ذریعہ فتح پائی تھی درجہ کی تعلیم کی وجہ سے ہوئی ہے ہے جو دلوں میں اتر جانی کی اور اخلاق میں ایک۔اعلیٰ درجہ کا تغیر پیدا کر دیتی تھی۔ایک صحابی کہتے ہیں میرے مسلمان ہونے کی وجہ محض یہ ہوئی کہ میں اس قوم میں مہمان ٹھہرا ہو ا تھا جس نے غداری کرتے ہوئے مسلمانوں کے ستر قاری شہید کر دیئے تھے جب انہوں نے مسلمانوں پر حملہ کیا تو کچھ تو اونچے ٹیلے پر چڑھ گئے اور کچھ ان کے مقابلہ میں کھڑے رہے۔چونکہ دشمن بہت بڑی تعداد میں تھا اور مسلمان بہت تھوڑے تھے اور وہ بھی نہتے اور بے سروسامان اس لئے انہوں نے ایک ایک کر کے تمام مسلمانوں کو شہید کر دیا۔آخر میں صرف ایک صحابی رہ گئے جو ہجرت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے ان کا نام عامر بن فہیر کا تھا۔بہت سے لوگوں نے مل کر ان کو پکڑ لیا اور ایک شخص نے زور سے نیزہ ان کے سینہ میں مارا۔نیزے کا لگنا تھا کہ اُن کی زبان سے بے اختیار یہ فقرہ نکلا کہ فُوتْ وَ رَبِّ الْكَعْبَۃ کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔جب میں نے ان کی زبان سے یہ فقرہ سنا تو میں حیران ہوا اور میں نے کہا یہ شخص اپنے رشتہ داروں سے ڈور، اپنے بیوی بچوں سے دور، اتنی بڑی مصیبت میں مبتلاء ہوا اور نیزہ اِس کے سینہ میں مارا گیا مگر اس نے مرتے ہوئے اگر کچھ کہا تو صرف یہ کہ کعبہ کے رب کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا۔کیا یہ شخص پاگل تو نہیں۔چنانچہ میں نے بعض اور لوگوں سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے اور اس کے منہ سے ایسا فقرہ کیوں نکلا ؟ انہوں نے کہا تم نہیں جانتے یہ مسلمان لوگ واقع میں پاگل ہیں جب یہ خدا تعالیٰ کی راہ میں مرتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ان سے راضی ہو گیا اور انہوں نے کامیابی حاصل کر لی۔میری طبیعت پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں ان لوگوں کا مرکز جا کر دیکھوں گا اور خود ان لوگوں کے مذہب کا مطالعہ کروں گا۔چنانچہ میں مدینہ پہنچا اور مسلمان ہو گیا۔صحابہ کہتے ہیں کہ اس واقعہ کا کہ ایک شخص کے سینہ میں نیزہ مارا جاتا ہے اور وہ وطن