سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 900

سیر روحانی — Page 376

سے کوسوں دُور ہے، اُس کا کوئی عزیز اور رشتہ دار اس کے پاس نہیں اور اس کی زبان سے یہ نکلتا ہے کہ فُرْتُ وَ رَبِّ الْكَعْبَۃ اس کی طبیعت پر اتنا اثر تھا کہ جب وہ یہ واقعہ سنایا کرتا اور فُزُتُ وَ رَبِّ الْكَعْبَة کے الفاظ پر پہنچتا تو اس واقعہ کی ہیبت کی وجہ سے یکدم اس کا جسم کانپنے لگ جاتا اور آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے لے تو اسلام اپنی خوبیوں کی وجہ سے پھیلا ہے زور سے نہیں۔مسلمانوں کی تمام جنگیں مدافعانہ تھیں اللہ تعالیٰ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ آسمان سے لشکر اُتریگا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو کامیاب کریگا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمانوں کو لڑائیاں بھی لڑنی پڑیں مگر جتنی بھی لڑائیاں ہوئی ہیں ان میں ابتداء کفار کی طرف سے ہوئی ہے۔کفار نے آپ حملہ کیا اور مسلمانوں کو ان کے دفاع کے لئے میدان جنگ میں اُترنا پڑا۔پس سوال یہ نہیں کہ مسلمانوں نے جنگیں کی ہیں یا نہیں سوال یہ ہے کہ کیا اسلام نے یہ کہا تھا کہ اگر کفار کی طرف سے حملہ ہوا تب تم جیتو گے ورنہ نہیں اسلام نے تو یہ کہا تھا کہ میں خود جیتوں گا اور وہ اسی طرح جیتا کہ جو لوگ اسلامی تعلیم کا مطالعہ کرتے یا مسلمانوں کی قربانی کا نظارہ دیکھتے اُن کے دل مرعوب ہو جاتے اور وہ اسلامی تعلیم کے حُسن اور اس کی صداقت کا اقرار کرنے پر مجبور ہو جاتے۔افسوس کہ آج کے کامیابی توپوں کے ساتھ نہیں بلکہ قرآن کے ساتھ وابستہ ہے مسلمان توپ و تفنگ کی طرف دیکھ رہے ہیں بجائے اس کے کہ وہ اسلامی احکام پر عمل کریں ، اخلاق فاضلہ پر زور دیں ، دعا، نماز اور ذکر الہی کی طرف توجہ کریں وہ یورپ کی طرف آنکھ اُٹھائے اِس اُمید میں بیٹھے ہوئے ہیں کہ کب یہ لوگ انہیں تو ہیں اور تلواریں دیتے ہیں جن کے زور سے وہ دنیا کو فتح کریں۔وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کی طرف نہیں دیکھتے وہ کافر کی تو پ اپنے ہاتھوں میں لینا چاہتے ہیں حالانکہ کامیابی تو پوں کے ساتھ نہیں بلکہ اسلامی تعلیم پر عمل کرنے کے ساتھ وابستہ ہے۔کفر کی مجموعی طاقت کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ (1) اب میں یہ بتاتا ہوں کہ طاقت مخالفانہ کے بارہ میں اس نے کیا حکم دیا ہے؟ طاقت مخالفانہ اور انفرادی مخالفت یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں۔