سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 900

سیر روحانی — Page 270

۲۷۰ طب ایسی نہیں جو یہ بتا سکے کہ سیب کے کون سے ایسے اجزاء ہیں جو نہ ملیں تو حمل ضائع ہو جاتا ہے ہے یا مٹی میں کون سے ایسے اجزاء ہیں جن کا حاملہ عورتوں کو دیا جانا ضروری ہوتا ہے مگر واقع یہی ہوتا ہے اور طبیب بھی مانتے ہیں کہ بعض دفعہ ان چیزوں کے نہ ملنے کی وجہ سے حمل گر جاتا ہے۔اسی طرح بعض دفعہ اُن کے اندر دُودھ پینے کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔مجھے ایک عجیب مرض ہے، میں دُودھ پی لوں تو مجھے سر درد کا دورہ ہو جاتا ہے مگر کسی کسی دن مجھے اتنا شدید شوق پیدا ہوتا ہے کہ میں برداشت نہیں کر سکتا اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ مجھے سر درد ہو جائے گی پھر بھی دُودھ پی لیتا ہوں اور اس کے بعد دورہ ہو جاتا ہے۔تو کئی قسم کی باریک خواہشات انسان کے اندر پائی جاتی ہیں اور وہ ایسی شدید ہوتی ہیں کہ پوری نہ ہوں تو زندگی بے مزہ معلوم ہونے لگتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَفِيهَا۔مَا تَشْتَهِيهِ الْأَنْفُسُ دنیا میں تو بعض دفعہ انسان کا جی چاہتا ہے کہ اُسے سیب کھانے کو ملے مگر اُسے سیب نہیں ملتا۔عورت چاہتی ہے کہ مٹی کھائے مگر دوسرے لوگ اُسے کھانے نہیں دیتے ، مگر فرمایا وہاں جو بھی طبعی خواہش پیدا ہوگی اس کو پورا کر دیا جائے گا۔دماغی خواہشات کی تکمیل پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے کچھ دماغی خواہشیں بھی ہوتی ہیں اور انسان چاہتا ہے کہ ان خواہشوں کے پورا ہونے کا بھی سامان ہو۔پس میں نے سوچا کہ اگر کبھی عقلی ضرورت محسوس ہوگی ، گو اس کے ساتھ طبعی خواہش نہ ہوئی تو کیا یہ ضرورت بھی پوری ہو گی یا نہیں؟ اس پر میں نے دیکھا تو اس کا بھی انتظام تھا۔چنانچہ لکھا تھا لَهُمْ فِيهَا مَا يَشَاءُونَ ۵۳ وہاں جنتی جو کچھ چاہیں گے انہیں مل جائے گا۔اور یہ امر ظاہر ہے کہ مشیت دل کے ساتھ تعلق رکھتی ہے ، مگر اشتہا ء نفسانی خواہشات کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔پس وہاں انسان کی اشتہاء بھی پوری ہو گی اور انسان کی مشیت بھی پوری ہو گی۔گویا جن کے اندر طبعی خواہشات پیدا ہوں گی جو اُن کے روحانی جسموں کے مطابق ہوں گی ان کے لئے ان کی طبعی خواہشوں کے پورا کرنے کے سامان کئے جائیں گے اور جنہیں عقلی ضرورت محسوس ہو گی ان کی اس ضرورت کو بھی وہاں پورا کر دیا جائے گا۔ہمارے خدا کا عجیب و غریب مینا بازار میں نے جب یہ نظارہ دیکھا تو کہا سُبْحَانَ اللهِ وہ مینا بازار اور مارکیٹیں تو ایسی ہوتی ہیں کہ ان کی چیزیں یا تو میری طاقت سے باہر ہوتی ہیں اور اگر طاقت کے اندر ہوتی