سیر روحانی — Page 269
۲۶۹ کی خواہش اندر سے پیدا ہوتی ہے۔تو ان دونوں تقاضوں میں فرق ہے۔میں نے سوچا کہ اگر میرے طبعی تقاضے پورے نہ ہوئے تب بھی میں کمزور ہو کر مر جاؤں گا اور اگر میری علمی زیادتی نہ ہوئی اور مجھے اپنی ذہنی اور عقلی پیاس کو بجھانے کا موقع نہ ملا تو اس صورت میں بھی میرا دماغ کمزور ہو جائے گا۔پس طبعی تقاضوں کا پورا ہونا بھی ضروری ہے تا کہ میرا جسم مکمل ہوا اور عقلی تقاضوں کا پورا ہونا بھی ضروری ہے تا کہ میرا دماغ مکمل ہو۔قرآنی بشارت میں اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ معا میرے کان میں آواز آئی وَفِيهَا مَا تَشْتَهِيهِ إِلَّا نُفُسُ وَتَلَذُّ الْأَعْيُنُ وَأَنْتُمْ فِيهَا خَلِدُونَ ۵۲ کہ جو جو چیزیں ہم پہلے بتا چکے ہیں وہ بھی جنت میں ملیں گی اور اُن کے علاوہ جو طبعی تقاضے ہیں ، اشتہاء کہ وہ اندر سے پیدا ہوتی ہے اور آنکھوں کی یہ حس کہ اس کے سامنے ایسی چیزیں آئیں جنہیں دیکھ کر وہ لذت اُٹھائے ہم ان تمام تقاضوں کو پورا کریں گے۔گویا قرآن کریم نے ان خواہشات کو تسلیم کیا ہے جو اندرونی ضرورتوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں اور فرماتا ہے کہ ان خواہشات کو ہم ضرور پورا کریں گے۔یہ خواہشات ہر شخص کے اندر پائی جاتی ہیں اور اگر ہم تجزیہ کریں تو بعض دفعہ ایک ایک چیز کی خواہش ہی نہیں ہوتی بلکہ اس چیز کے ایک ایک حصہ کی خواہش انسانی قلب میں پائی جاتی ہے۔حاملہ عورتوں میں مٹی کھانے کی خواہش عورتوں کے پیٹ میں جب بچہ ہوتا ہے تو اُن کی جس اتنی تیز ہو جاتی ہے کہ بچے کو جس غذاء کی ضرورت ہوتی ہے ، ماں کے دل میں اُسی غذا کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔غذاء کے بعض اجزاء مٹی میں سے نکلتے ہیں جس کی وجہ سے ایام حمل میں عورتوں کو مٹی کھانے کی عادت ہو جاتی ہے۔درحقیقت انسان کو خدا تعالیٰ نے مٹی سے ہی ترقی دیکر بنایا ہے، اس لئے جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو ماں کے دل میں مٹی کھانے کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ ایسی مٹی ہو جس میں کچھ پانی ملا ہوا ہو، یا چکنی مٹی ہو اور سو میں سے پچاس ایسی عورتیں ہوتی ہیں جو مٹی کھاتی ہیں۔وہ یہ نہیں کہتیں کہ ہمیں بھوک لگتی ہے اس لئے ہم مٹی کھاتی ہیں ، بلکہ وہ کہتی ہیں ہمارے دل میں مٹی کھانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔اسی طرح بعض دفعہ حاملہ عورتوں کو سیب کھانے کی شدید طور پر خواہش پیدا ہوتی ہے اور یہ خواہش اتنی ہے سخت ہوتی ہے کہ بعض دفعہ اگر سیب نہیں ملتا تو عورتوں کا حمل گر جاتا ہے۔اب دنیا کی کوئی