سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 900

سیر روحانی — Page 260

۲۶۰ بجھانے کی کوشش کی۔اتنے میں دو چار سپاہیوں نے مجھے پکڑ لیا۔کسی نے کمر سے اور کسی نے قمیص سے اور میں سخت گھبرایا کہ ایسا نہ ہو یہ لوگ اوپلوں کو آگ لگا دیں اسی دوران میں اچانک میری نظر او پر اُٹھی اور میں نے دیکھا کہ دروازے کے اوپر نہایت موٹے اور خوبصورت حروف میں یہ لکھا ہوا ہے کہ : - ” جو خدا کے پیارے بندے ہوتے ہیں اُن کو کون جلا سکتا ہے " تو اگلے جہان میں ہی نہیں یہاں بھی مؤمنوں کے لئے سلامتی ہوتی ہے۔ہم نے اپنی آنکھوں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ایسے بیسیوں واقعات دیکھے کہ آپ کے پاس گونہ تلوار تھی نہ کوئی اور سامانِ حفاظت مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت کے سامان کر دیئے۔امام جماعت احمدیہ کے قتل کی نیت ابھی ایک کیس میں ایک ہندوستانی عیسائی کو پھانسی کی سزا ہوئی ہے۔اس کا جرم یہ تھا کہ اس سے آنیوالا ایک ہندوستانی عیسائی نے غصہ میں آ کر اپنی بیوی کوقتل کر دیا۔جب مقدمہ ہوا تو مجسٹریٹ کے سامنے اُس نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی تقریریں سُن سُن کر میرے دل میں احمدیوں کے متعلق یہ خیال پیدا ہوا کہ وہ ہر مذہب کے دشمن ہیں۔عیسائیت کے وہ دشمن ہیں ، ہندو مذہب کے وہ دشمن ہیں ، سکھوں کے وہ دشمن ہیں، مسلمانوں کے وہ دشمن ہیں اور میں نے نیت کر لی کہ جماعت احمدیہ کے امام کو قتل کر دونگا۔میں اس غرض کے لئے قادیان گیا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ پھیرو چیچی گئے ہوئے ہیں ، چنانچہ میں وہاں چلا گیا۔پستول میں نے فلاں جگہ سے لے لیا تھا اور ارادہ تھا کہ وہاں پہنچ کر اُن پر حملہ کر دوں گا ، چنانچہ پھیر و چیچی پہنچ کر میں اُن سے ملنے کے لئے گیا تو میری نظر ایک شخص پر پڑ گئی جو اُن کے ساتھ تھا اور وہ بندوق صاف کر رہا تھا ( یہ دراصل بیٹی خاں صاحب مرحوم تھے ) اور میں نے سمجھا کہ اس وقت حملہ کرنا ٹھیک نہیں ، کسی اور وقت حملہ کرونگا۔پھر میں دوسری جگہ چلا گیا اور وہاں سے خیال آیا کہ گھر ہو آؤں۔جب گھر پہنچا تو بیوی کے متعلق بعض باتیں سن کر برداشت نہ کر سکا اور اُسے پستول سے ہلاک کر دیا۔پس یہ ایک اتفاقی حادثہ تھا جو ہو گیا ورنہ میرا ارادہ تو کسی اور کو قتل کرنے کا تھا۔اب دیکھو کس طرح اس شخص کو ایک ایک قدم پر خدا تعالیٰ روکتا اور اس کی تدبیروں کو