سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 900

سیر روحانی — Page 261

۲۶۱ ناکام بناتا رہا۔پہلے وہ قادیان آتا ہے مگر میں قادیان میں نہیں بلکہ پھیر و چیچی ہوں ، وہ پھیرو چیچی پہنچتا ہے تو وہاں بھی میں اُسے نہیں ملتا اور اگر ملتا ہوں تو ایسی حالت میں کہ میرے ساتھ ایک اور شخص ہوتا ہے، جس کے ہاتھ میں اتفاقاً بندوق ہے اور اُس کے دل میں خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ اس وقت حملہ کرنا درست نہیں۔پھر وہ وہاں سے چلا جاتا ہے اور ادھر اُدھر پھر کر گھر پہنچتا ہے اور بیوی کو مار کر پھانسی پر لٹک جاتا ہے۔فتنہ احرار کے ایام میں ایک نوجوان پٹھان کا ارادہ قتل سے قادیان آنا اسی طرح احرار کے فتنہ کے ایام میں ایک دفعہ ایک پٹھان لڑکا قادیان آیا اور میرا نام لے کر کہنے لگا میں نے اُن سے ملنا ہے۔میاں عبدالاحد خاں صاحب افغان اس سے باتیں کرنے لگے۔باتیں کرتے کرتے یک دم اُس نے ایک خاص طرز پر اپنی ٹانگ ہلائی اور پٹھان اس طرز پر اُسی وقت اپنی ٹانگ ہلاتے ہیں جب انہوں نے نیچے پھر اچھپایا ہوا ہو۔میاں عبد الاحد خاں بھی چونکہ پٹھان ہیں اور وہ پٹھانوں کی اس عادت کو اچھی طرح جانتے تھے، اس لئے جو نہی اُس نے خاص طرز پر ٹانگ ہلائی انہوں نے یکدم ہاتھ ڈالا اور چھری پکڑ لی۔بعد میں اس نے اقرار بھی کرلیا کہ میرا ارادہ یہی تھا کہ ملاقات کے بہانے اُن پر حملہ کر دونگا۔اب ایک پٹھان کا قادیان آنا اور اس کی باتوں کے وقت ایک احمدی پٹھان کا ہی موجود ہونا اور اس کا پکڑا جانا محض اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ تھا ورنہ اگر کوئی و غیر پٹھان ہوتا تو وہ سمجھ بھی نہ سکتا تھا کہ اُس نے ٹانگ کو اس طرح کیوں حرکت دی ہے۔زہر آلود بالائی کھلانے کی کوشش اسی طرح میں ایک دفعہ جلسہ سالانہ میں سٹیج پر تقریر کر رہا تھا کہ کسی نے ایک پرچ میں بالائی رکھ کر دی کہ یہ حضرت صاحب کو پہنچا دی جائے اور دوستوں نے دست بدست اُسے آگے پہنچانا شروع کر دیا۔رستہ میں کسی دوست کو خیال آیا کہ یہ کوئی زہریلی چیز نہ ہو، چنانچہ اُس نے چکھنے کے لئے ذراسی بالائی زبان کو لگائی تو اُس کی زبان کٹ گئی ، مگر چونکہ وہ دست بدست پیچھے سے چلی آرہی ہے تھی اس لئے یہ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کون شخص تھا جس نے زہر کھلانے کی کوشش کی۔تو اس قسم کے کئی واقعات ہوتے رہتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی حفاظت کا پتہ چلتا ہے ، مگر پھر بھی جب تک وہ چاہتا ہے حفاظت کا سامان رہتا ہے اور جب وہ چاہتا ہے ان سامانوں کو ہٹا لیتا ہے بہر حال اس جہان کی سلامتی محدود ہے، لیکن اگلے جہان کی سلامتی غیر محدود اور ہمیشہ کے لئے ہے۔