سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 900

سیر روحانی — Page 254

۲۵۴ اپنے لئے ایک ہوٹل سے چار پائی منگوائی تب جا کر سویا لیکن وہ لوگ کثرت سے تختوں پر سوتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عَلى سُرُرٍ مَّوْضُونَةٍ وہاں جنت میں بنی ہوئی چار پائیاں ہوں گی ( جو لچکدار ہوتی ہیں ( مُتَّكِثِينَ عَلَيْهَا مُتَقَبِلِینَ۔لیکن ایک عجیب بات یہ ہے کہ دنیا میں تو چار پائی سونے کے لئے ہوتی ہے مگر جنت میں سونے کا کہیں ذکر نہیں آتا۔کہیں قرآن میں یہ نہیں لکھا کہ جنتی کبھی سوئیں گے بھی۔در حقیقت سونا غفلت کی علامت ہے اور چونکہ جنت میں غفلت نہیں ہوگی اس لئے وہاں سونے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔اس سے بھی ان لوگوں کا رڈ ہوتا ہے جو جنت کو نَعُوذُ بِالله عیاشی کا مقام کہتے ہیں۔عیاشی کے لئے سونا ضروری ہوتا ہے غالب کہتا ہے۔ایک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہئے وہ دن کو بھی سونے والی حالت بنانا چاہتا ہے کجا یہ کہ رات کو بھی سونا نصیب نہ ہو۔اسی طرح عیاشی میں لوگ افیون کھا کھا کر غفلت پیدا کرتے ہیں ، مگر اللہ تعالیٰ نے جنت میں کہیں بھی سونے کا ذکر نہیں کیا ، ہمیشہ کام کی طرف ہی اشارہ کیا ہے اس لئے یہاں بھی یہ نہیں فرمایا کہ وہ وہاں چار پائیوں پر سو رہے ہوں گے بلکہ فرمایا عَلى سُرُرٍ مَّوْضُونَةٍ مُّتَّكِئِينَ عَلَيْهَا مُتَقبِلِينَ وہ اس پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے اور تکیہ لگانا راحت اور استراحت پر دلالت کرتا ہے غفلت پر نہیں ، ہم کتابیں پڑھتے ہیں ، اعلیٰ مضامین پر غور کرتے ہیں تو تکیہ لگائے ہوئے ہوتے ہیں، مگر اُس وقت ہمارے اندر غفلت یا نیند نہیں ہوتی۔مگر چونکہ تکیہ عموماً لوگ سوتے وقت لگاتے ہیں اور اس سے قحبہ پڑ سکتا تھا کہ شاید وہ سونے کے لئے تکیہ لگائیں گے اس لئے ساتھ ہی فرما دیا مُتَقبِلِينَ وہ ایک دوسرے کی طرف منہ کر کے بیٹھے ہوئے ہوں گے اور سوتے وقت کوئی ایک دوسرے کی طرف منہ کر کے نہیں بیٹھا کرتا۔ایک دوسرے کی طرف منہ کرنے کے معنے یہی ہیں کہ انہیں آرام کرنے کے لئے چار پائیاں ملی ہوئی ہوں گی اور وہ تکیہ لگائے بیٹھے ہونگے مگر سونے کے لئے نہیں ، غفلت کے لئے نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی طرف منہ کر کے خدا تعالیٰ کی معرفت کی باتیں کر رہے ہونگے اور اس کا ذکر کر کے اپنے ایمان اور عرفان کو بڑھاتے رہیں گے۔شاہانہ اعزاز و اکرام اسی طرح فرماتا ہے فِيهَا سُرُرٌ مَّرْفُوعَةٌ وَّاكْوَابٌ مَّوْضُوعَةٌ وَّنَمَارِقُ مَصْفُوَفَةٌ وَّزَرَابِيُّ مَبْثُوثَةٌ