سیر روحانی — Page 253
۲۵۳ چیزیں لائیں گے وَاكْوَابِ كَانَتْ قَوَارِيرَاً اور گوب لائیں گے جو قواریر کی طرز پر ہونگے۔قَوَارِيرَا کے معنے شیشہ کے برتن کے ہیں جس میں شراب ڈالی جائے۔پس وہ برتن شیشے کی طرح ہوں گے مگر بنے ہوئے چاندی سے ہوں گے یعنی اُن کی رنگت میں وہ سفیدی بھی ہوگی جو چاندی میں ہوتی ہے اور ان میں وہ نزاکت بھی ہو گی جو شیشہ کے برتنوں میں ہوتی ہے گویا ان برتنوں میں ایک طرف تو اتنی صفائی ہو گی کہ جس طرح شیشہ کے برتن میں پڑی ہوئی چیز باہر سے نظر آ جاتی ہے اسی طرح اُن کے اندر کی چیز باہر سے نظر آ جائے گی اور دوسری طرف ان میں اتنی سفیدی ہوگی کہ وہ چاندی کی طرح چمکتی ہوگی۔درحقیقت مؤمن کا جنت میں ایک دوسرے سے اسی قسم کا معاملہ ہو گا۔وہ ایک دوسرے کے قلب کو اسی طرح پڑھ لیں گے جس طرح شیشہ کے برتن میں سے شربت نظر آ جاتا ہے۔یہاں انسان اپنی عزیز ترین بیوی کے متعلق بھی نہیں جانتا کہ اس کے دل میں کیا ہے مگر وہاں یہ حالت نہیں ہوگی اور ایسی چیزیں جو بظاہر شفاف نہیں ہوتیں جیسے چاندی ، وہ بھی وہاں شفاف ہوں گی۔فِضة کے معنے عربی زبان میں بے عیب سفیدی کے ہوتے ہیں، پس ان برتنوں کے چاندی سے بنائے جانے کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ ایک طرف تو جنتی بے عیب ہوں گے اور دوسری طرف ان میں کوئی اختفاء نہیں ہوگا ، ہر شخص جانتا ہوگا کہ میرا دوست جو بات کہتا ہے درست کہتا ہے قبہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔ار پائیاں اور گاؤ تکیے (۱۰) پھر میں نے مینا بازار میں گھر کے اسباب فروخت ہوتے چار دیکھے تھے۔پس میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ میں دیکھوں آیا وہاں بھی گھر کا اسباب ملے گا یا نہیں؟ جب میں نے نظر دوڑائی تو وہاں لکھا تھا علی سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍ مُّتَّكِئِينَ عَلَيْهَا مُتَقَبِلِينَ كَ مَوْضُونَةٍ کے معنے بنی ہوئی چار پائی کے ہوتے ہیں۔پس عَلَى سُرُرٍ مَّوْضُونَةٍ کے معنے یہ ہوئے کہ وہ ایسی چارپائیوں پر ہوں گے جو بنی ہوئی ہونگی۔عربوں میں دوطرح کا رواج تھا۔اکثر تو تخت پر سوتے تھے مگر بعض چار پائی بھی استعمال کر لیا کرتے تھے جب ہم حج کے لئے گئے تو مکہ مکرمہ میں ہم نے اچھا سا مکان لے لیا مگر اس میں کوئی چار پائی نہیں تھی ، بلکہ اس میں سونے کے لئے جیسے شہ نشین ہوتے ہیں اسی قسم کے تخت بنے ہوئے تھے ، لوگ وہاں گڑے بچھا لیتے اور سو جاتے مگر ہمیں چونکہ ان پر سونے کی عادت نہیں تھی اس لئے میں نے