سیر روحانی — Page 107
میں مسلمان ایک امام کی اقتداء میں نمازیں ادا کرتے ہیں۔گویا سابق نیکی کے لیڈروں کو زندہ رکھا جاتا اور مساجد کے ذریعہ امامت کو ہر وقت قوم کی آنکھوں کے سامنے رکھا جاتا ہے اور مساجد لوگوں کو یہ مسئلہ یاد دلاتی رہتی ہیں کہ تم میں ایک امام ہونا چاہئے اور اس امام کی اقتداء میں تمہیں ہر کام کرنا چاہئے۔(۸) مساجد مسافروں کے مسافر اور مقیم کے فوائد مساجد سے ہی وابستہ ہیں فائدہ کے لئے بنائی جاتی ہیں۔مثلاً مسافر وہاں ٹھہر سکتا ہے اور چند روزہ قیام کے بعد اپنی منزلِ مقصود کو جاسکتا ہے۔(1) الْعَكِفِينَ مساجد شہر میں بسنے والوں کے فائدہ کے لئے بنائی جاتی ہیں۔مثلاً (الف) گھروں میں تو شور وشغب ہوتا ہے اور انسان سکون کے ساتھ ذکر الہی نہیں کر سکتا مگر وہاں ہر قسم کے شور و شر سے محفوظ ہو کر آرام سے لوگ ذکر الہی کر سکتے ہیں۔(ب) وہ وہاں اجتماعی عبادت کا فائدہ اُٹھاتے ہیں اگر مساجد نہ ہوں تو ایک نظام کے ماتحت عبادت نہ ہو سکے۔مثلاً جب جمعہ کا دن آتا ہے تو سب مسلمان اپنے اپنے محلوں کی مساجد کی بجائے جامع مسجد میں اکٹھے ہو جاتے اور اجتماعی عبادت بجا لاتے ہیں ، اس طرح مساجد انہیں اجتماعی حیثیت سے کام کرنے کی عادت ڈالتی ہیں۔(١٠) وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ اُن میں وہ لوگ رہتے ہیں جو خالص اللہ تعالیٰ کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیتے ہیں۔واقفین زندگی اور مساجد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں جو لوگ اپنے آپ کو خدمت دین کے لئے وقف کر دیا کرتے تھے وہ مسجد میں ہی رہتے تھے اور انہیں اَصْحَابُ الصُّفّہ کہا جاتا تھا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لاتے تو وہ آپ کی باتیں سُنا کرتے اور بعد میں لوگوں تک پہنچا دیتے۔غرض مسجد میں واقفین زندگی کو جمع کرنے کا ایک ذریعہ ہیں۔گاؤں والے بعض دفعہ اتنے غریب ہوتے ہیں کہ وہ الگ کسی جگہ مدرسہ نہیں کھول سکتے ایسی حالت میں وہ مسجد سے مدرسہ کا کام بھی لے سکتے ہیں ، کیونکہ ہمارا مدرسہ بھی مسجد ہے اور واقفین زندگی کی جگہ بھی مسجد میں ہے۔مساجد کے مشابہ صرف انبیاء کی جماعتیں ہیں اب میں بتاتا ہوں کہ اغراض اور مقاصد آیا کسی اور