سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 900

سیر روحانی — Page 108

۱۰۸ چیز کے بھی ہیں یا نہیں اور مسجد کے مشابہ عالم روحانی میں بھی کوئی چیز دکھائی دیتی ہے یا نہیں ؟ اس کے لئے پہلے میں علم تعبیر الرؤیا کو لیتا ہوں کیونکہ رویا میں تمثیلی زبان استعمال کی جاتی ہے اور خوابوں کی تعبیر سے انسان معلوم کر سکتا ہے کہ ظاہری چیزوں کی مشابہت کن روحانی چیزوں سے ہوتی ہے۔اس مقصد کے لئے جب ہم علم تعبیر الرؤیا کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مسجد انبیاء کی جماعت کو کہتے ہیں۔پس مساجد کے مشابہ عالم روحانی میں اگر کوئی چیزیں ہیں تو انبیاء کی جماعتیں ہیں۔اب دیکھنا یہ چاہئے کہ کیا انبیاء کی جماعتوں میں وہ باتیں پائی جاتی ہیں جو مساجد کی اغراض ہیں۔اگر پائی جاتی ہیں تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ واقع میں روحانی دنیا میں بھی مساجد ہیں اور وہ ظاہری مساجد سے بہت زیادہ شاندار ہیں۔آج تک دنیا میں خدا تعالیٰ کے بہت سے انبیاء ہوئے ہیں ، حضرت آدم علیہ السلام ہوئے ہیں، حضرت نوح علیہ السلام ہوئے ہیں، حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوئے ہیں، حضرت موسیٰ علیہ السلام ہوئے ہیں۔اسی طرح حضرت داؤد ، حضرت سلیمان ، حضرت بیچی اور حضرت عیسی علیہم السلام ہوئے ہیں اور ہر نبی نے کوئی نہ کوئی جماعت قائم کی ہے۔پس اگر ہم غور کریں تو ہر نبی کی جماعت میں ہمیں یہ مشابہتیں نظر آ جائیں گی اور ہمیں معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان امور کے پورا کرنے کے لئے مختلف روحانی مساجد بنائی گئی تھیں مگر میں تفصیلاً ان کے حالات اس جگہ بیان نہیں کر سکتا کیونکہ (۱) ایک تو مضمون لمبا ہو جاتا ہے (۲) دوسرے سب مساجد کے تفصیلی حالات محفوظ نہیں۔اس لئے میں صرف آخری مسجد کو لے لیتا ہوں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں تیار ہوئی اور جس کی نسبت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ مَسْجِدِ آخِرُ الْمَسَاجِدِ صحابہ کے متعلق ایک اصولی نکتہ اب میں ایک آ اب میں ایک ایک کر کے مساجد کی اغراض کی نسبت ثابت کرتا ہوں کہ وہ تمام کی تمام اس روحانی مسجد سے پوری ہوئی ہیں۔مگر ایک بات میں کہہ دینا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ بعض واقعات اس قسم کے ہوتے ہیں کہ اگر ان کے متعلق تاریخی طور پر بحث کی جائے تو وہ بہت لمبی ہو جاتی ہے اس لئے اصولی طور پر ایک نکتہ یاد رکھنا چاہئے اور وہ یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ كَانَ خُلُقُهُ الْقُرانُ " آپ کے اخلاق و عادات اگر ی معلوم کرنا چاہو تو قرآن پڑھ لو جو کچھ اس میں لکھا ہے وہی کچھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں پایا جاتا تھا۔حضرت عائشہ نے یہ بات جس موقع پر بیان فرمائی ، اس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ کی خدمت