سیر روحانی — Page 833
تغلق آباد آج اپنی تمام تر بربادیوں کے باوجود دہلی کا سب سے عظیم ترین اور پُر ہیبت قلعہ گردانا جاتا ہے اس کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی فصیلوں اور دو منزلہ بُر جوں اور عظیم الشان میناروں کے درمیان عظیم محلات اور شاندار مسجد میں اور بڑے بڑے عظیم ہال واقع تھے۔غیاث الدین تغلق ( وفات ۱۳۵۲ء) علاؤ الدین خلجی کے بھائی کے ہاں پیادوں میں ملازم ہؤا۔قابلیت اور حسن خدمات کی بناء پر بڑا امیر بن گیا۔تاتاریوں کے خلاف اُنتیس جنگیں کیں اور سب میں کامیاب ہوا۔اسی وجہ سے غازی ملک“ کا خطاب پایا۔خسرو خان کے قتل کے بعد غیاث الدین کے لقب سے بادشاہی سنبھال لی۔دکن اور بنگال میں امن قائم کیا اور فتوحات کیں۔بنگال سے واپسی پر ولی عہد نے دہلی کے باہر بادشاہ کے استقبال کے لئے لکڑی کا ایک خوبصورت سائبان بنوایا وہاں رات گزاری۔صبح کو جلوس کے ساتھ شہر میں داخلے کی تیاریاں ہورہی تھیں کہ اچانک سائبان گرا اور غیاث الدین اس میں دب کر مر گیا۔میانہ رو، با تد بیر اور علم پرور بادشاہ تھا۔مقبرہ غیاث الدین تغلق (دہلی ) آج تخلق آباد کو بدروحوں کا شہر قرار دیا جاتا ہے اور یہاں خانہ بدوش ڈیرہ لگائے رہتے ہیں۔سیاح بڑی کثرت سے غیاث الدین کے نہایت عمدہ اور خوبصورت طور پر تعمیر شدہ یادگاری مقبرہ کی زیارت کرنے آتے ہیں۔یہ مقبرہ تعلق آباد سے جانب جنوب اس کے بیٹے محمد تغلق نے بنوایا تھا۔مقبرے کے بُرج کی چار دیواری اندر باہر سے سنگِ سُرخ کی نہایت خوبصورت اور مضبوط ہے۔اس کے اندر تین قبریں ہیں۔ایک غیاث الدین کی ، دوسری اس کی بیوی مخدومہ جہاں کی اور تیسری محمد تغلق کی۔محمد تغلق کا انتقال تو سندھ میں ہوا انگر فیروز تغلق نے اس کی میت دہلی لے جا کر دفن کی۔یہ مقبرہ قلعہ کے بیرونی دروازہ کے ساتھ ہی ایک مصنوعی جھیل کے درمیان تعمیر شدہ ہے۔اس کو قلعہ کے ساتھ ایک کی سُرنگ کے ذریعہ ملایا گیا ہے۔مقبرہ شمس الدین التمش (دہلی ) یہ ایک ٹرک امیر کا چہیتا فرزند تھا۔بھائیوں نے حسد سے اسے غلام بنا کر بیچ ڈالا۔نہایت عمدہ تربیت پائی۔بعد میں قطب الدین ایبک نے خرید لیا۔ہونہار دیکھ کر بیٹی سے شادی کر دی اور بدایون کا حاکم بنا دیا۔بدایون اُس زمانہ میں اسلامی سلطنت کا نہایت اہم مرکز تھا۔ایک کی وفات پر اس کا بیٹا آرام شاہ