سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 796 of 900

سیر روحانی — Page 796

۷۹۶ مطابقت بھی پیدا کی ہے۔اے مخاطب ! تو کوئی اختلاف اللہ تعالیٰ کی پیدائش میں نہیں دیکھے گا۔پس تو اپنی آنکھ کو لوٹا ، کیا تجھے کوئی رخنہ یا کمی نظر آتی ہے۔پھر دوبارہ اپنی نظر کوکو ٹا کر دیکھ تیری نظر تھکی ہوئی اور ماندہ ہو کر کوٹے گی اور خدا تعالیٰ کی پیدائش میں تجھے نقص نظر نہیں آئے گا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ تمام کائنات اتفاقاً پیدا ہوگئی ہے اور اتفاقی طور پر مادہ کے ملنے سے یہ سب کچھ بن گیا ہے اور پھر وہ سائنس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایسا ہو سکتا ہے۔دنیا آپ ہی آپ پیدا ہو گئی ہے اس کی کل چلانے والا کوئی نہیں۔انکا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں دیا ہے کہ اتفاقی طور پر جڑنے والی چیزوں میں کبھی ایک سلسلہ اور نظام نہیں ہوگا بلکہ بے جوڑ پن ہوتا ہے۔مختلف رنگوں سے تصویر بنتی ہے لیکن کیا اگر مختلف رنگ ایک کاغذ پھینک دیں تو اُس سے تصویر بن جائیگی؟ اینٹوں سے مکان بنتا ہے لیکن کیا اینٹیں ایک دوسری پھینک دی جائیں تو مکان بن جائیگا ؟ بفرض محال اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ بعض کام اتفاقاً ہو جاتے ہیں تو بھی نظام عالم کو دیکھ کر کوئی آدمی یہ نہیں کہ سکتا کہ یہ سب کچھ آپ ہی آپ ہو گیا ہے۔مانا کہ خود مادہ پیدا ہو گیا اور مانا کہ مادہ سے خود بخود زمین پیدا ہو گئی۔مانا کہ انسان بھی خود بخود پیدا ہو گیا لیکن انسان کی پیدائش پر غور تو کرو کہ کیا ایسی کامل پیدائش خود بخود ہوسکتی ہے؟ دنیا میں عام طور پر کسی صنعت کی خوبی سے اس کے صناع کا پتہ لگتا ہے۔ایک عمدہ تصویر دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ کسی اچھے مصور نے یہ تصویر بنائی ہے۔ایک عمدہ تحریر دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ تحریر کسی اچھے کا تب نے لکھی ہے۔اور جس قدر ربط بڑھتا جائے بنانے والے کی خوبی ظاہر ہوتی ہے پھر کس طرح تصور کیا جا سکتا ہے کہ ایسی منظم دنیا خود بخود پیدا ہوگئی ہے؟ قرآن کریم میں زرتشتی مذہب کے اصول کا ذکر اور اُن کا رڈ قرآن کریم میں زرتشتی مذہب کے اصولوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔زرتشتیوں کے نزدیک ایک نور کا خدا ہوتا ہے اور ایک تاریکی کا خدا ہوتا ہے اور ان دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہوتا۔تاریکی کا خدا نور پیدا نہیں کر سکتا اور ٹور کا خدا تاریکی پیدا نہیں کر سکتا۔اگر ٹور کا خدا تاریکی پیدا کرے اور تاریکی کا خدا نور پیدا کر دے تو اس کا مطلب ہے کہ دنیا تباہ ہو جائے۔ان کے مقابلہ میں عیسائی تین خداؤں کو مانتے ہیں اور ہند و ہزاروں دیوتاؤں کو مانتے ہیں۔قرآن کریم نے زرتشتی مذہب کی طرف بھی اشارہ کیا ہے اور اس کے غلط اصولوں کی تردید کی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلْحَمْدُ لِلهِ