سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 767 of 900

سیر روحانی — Page 767

قرآن کریم نے نہ کیا ہو۔یہاں یہ امر بھی یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم حجم کے لحاظ سے بہت چھوٹی سی کتاب ہے جو وید اور تورات سے ہی چھوٹی نہیں بلکہ انا جیل سے بھی چھوٹی ہے۔ایسی کتاب کا دعوی کرنا کہ میرے اندر تمام پہلی کتب موجود ہیں اور اُن کے حشو وز وائد کو میں نے دُور کر دیا ہے بتاتا ہے کہ اس کے اندر تمام پہلی کتب با تفصیل موجود نہیں بلکہ اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ اس کے اندر تمام اصولوں کو بیان کر دیا گیا ہے کیونکہ اگر ساری سابقہ کتب سماوی اور تمام علوم اس کتاب میں بالتفصیل بیان ہوتے تو قرآن اتنی بڑی کتاب ہو جاتی کہ آسمان کی فضا کو بھی بھر دیتی مگر یہ تو جیب میں آجاتی ہے بلکہ آج ایک دوست نے مجھے تحفہ بھیجا ہے وہ ایک ٹھپہ ہے جس پر کسی کا ریگر نے ایک ہی طرف سارا قرآن کریم لکھ دیا ہے۔لیکن اگر بڑے حجم والے قرآن کریم بھی دیکھے جائیں تو وہ چھ سات سو صفحات میں ختم ہو جاتے ہیں لیکن بائبل اور انا جیل اس سے بہت بڑی ہیں۔بہر حال قرآن کریم نے جو کچھ کہا ہے کہ اس میں تمام سماوی اور الہا می کُتب موجود ہیں دین کو قائم رکھنے والی تمام تعلیمیں موجود ہیں، اسی طرح تمام ضروری علوم موجود ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام کتب اور علوم اپنی پوری تفصیل کے ساتھ قرآن کریم میں موجود ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم میں اُن تمام سچائیوں کے اصول بیان کر دیئے گئے ہیں اور اُن میں جو غلطیاں اور زوائد تھے اُن کی اصلاح کر دی گئی ہے۔زمین و آسمان کی پیدائش چھ دنوں میں نہیں بلکہ چھ یوم میں ہوئی ہے مثال کے طور پر میں اس بات کو لیتا ہوں کہ بائبل میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے زمین و آسمان کو چھ دنوں میں پیدا کیا ہے اور ساتویں دن آرام کیا حالانکہ تمام سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ زمین و آسمان چھ دنوں میں پیدا نہیں ہوئے بلکہ وہ اس عرصہ کو چھ یوم سے بھی آگے لے جاتے ہیں۔قرآن کریم میں اس مفہوم کو ادا کرنے کے لئے ”یوم“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور عربی زبان میں ”یوم“ کے معنے دن“ کے نہیں ہوتے بلکہ وقت کے ہوتے ہیں۔پس قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ زمین و آسمان چھ وقتوں یا چھ درجوں میں پیدا کئے گئے ہیں گویا قرآن کریم میں زمین و آسمان کی پیدائش کے دن بیان نہیں کئے گئے بلکہ چھ درجے بیان کئے گئے ہیں۔دنوں کے لحاظ سے بعض لوگوں نے اُن کو شمار جمعہ سے کیا ہے اور بعض لوگوں نے ہفتہ سے اُن کا شمار کیا ہے اور بعض نے اس کے بعد اتوار