سیر روحانی — Page 768
۷۶۸ وو وو سے شمار کیا ہے۔یہودی لوگ ہفتہ کو ”سبت مانتے ہیں اور مسلمان جمعہ کو سبت شمار کرتے ہیں جو آرام کا دن ہے اور عیسائی اور ہندوؤں میں ” سبت اتوار کا دن ہے۔سبت“ در حقیقت ہفتہ کا ہی دن تھا مگر جب رومی بادشاہ عیسائیت میں داخل ہوا تو اُس نے پادریوں کی ایک کونسل بٹھائی اور اُس کے سامنے یہ مسئلہ رکھا کہ رومی لوگ نہ تو ایک خدا کو مانیں گے کیونکہ وہ تثلیث کے قائل ہیں اور نہ وہ ”سبت ہفتہ کو مانیں گے اس لئے یہاں عیسائیت کا پھیلنا ہے۔اس پر پادریوں نے کہا کہ ہمیں تو عیسائیت کی اشاعت سے غرض ہے ہم تین خدا مان لیتے ہیں۔مسیح، روح القدس اور خدا اور آپ بے شک ہفتہ کی بجائے اتوار کی تعطیل کا اعلان کر دیں۔چنانچہ عیسائیوں میں اتوار کی تعطیل ہونے لگ گئی۔مسلمانوں میں جمعہ کی تعطیل ہوتی رہی کیونکہ قرآن کریم میں جمعہ کے دن کو ترجیح دی گئی ہے اور یہودیوں میں ہفتہ کے دن کو آرام کا دن قرار دیا گیا ہے اور تورات میں اس کا وضاحت سے ذکر ہے۔چنانچہ اُس میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا اور ساتویں دن اُس نے آرام کیا ہے بعض اردو کے نسخوں میں مترجموں نے لوگوں کے اعتراض کے ڈر سے آرام کیا کی جگہ فراغت پائی یا فارغ ہو" کے الفاظ لکھ دیئے ہیں لیکن دوسرے نسخوں میں آرام کیا “ کے الفاظ ہی موجود ہیں۔اور اسی بناء پر ہفتہ کے دن کو یہود میں مقدس قرار دیا گیا ہے۔بائیل کی اصلاح لیکن قرآ لیکن قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ بات تو ٹھیک ہے کہ زمین و آسمان کو چھ وقتوں یا درجوں میں پیدا کیا گیا ہے مگر یہ بات غلط ہے کہ ساتویں دن وو خدا تعالیٰ کو آرام کی ضرورت محسوس ہوئی۔چنانچہ خدا تعالیٰ سورۃ ق میں فرماتا ہے کہ وَلَقَدُ خَلَقْنَا السَّمَوَاتِ وَالَا رُضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ۔یعنی ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ اُن کے درمیان ہے چھ وقتوں میں پیدا کیا ہے۔اور ہمیں کوئی تھکان محسوس نہیں ہوئی۔یعنی بائبل کا یہ بیان تو درست ہے کہ زمین و آسمان کو چھ وقتوں میں پیدا کیا گیا لیکن یہ بات درست نہیں کہ اس کے بعد ہم تھک گئے ہم نہ تھکے اور نہ ہمیں آرام کی ضرورت پیش آئی۔کیونکہ ہمارا پیدائش کا طریق ایسا ہے کہ ہم تھک ہی نہیں سکتے ایک دوسری جگہ اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ اللهُ لَا إِلهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأخُذُهُ سِنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِى السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِى يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۚ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ