سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 766 of 900

سیر روحانی — Page 766

جوان تھا اور میری صحت مضبوط تھی۔مگر اب میں کمزور ہوں اور زیادہ دیر تک بول نہیں سکتا مگر بہر حال خدا تعالیٰ نے مجھے جس قدر توفیق دی میں اس مضمون کو مکمل کرنے کی کوشش کرونگا۔آج کی تقریر میں میں اُن کتب خانوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو قرآن کریم میں پائے جاتے ہیں کیونکہ اس سفر میں میں نے بادشاہوں کے کتب خانے بھی دیکھے تھے اور میں ان سے بہت متاثر ہو ا تھا۔سب سے پہلے قرآن کریم کا دعوی کہ اس کے اندر ہر قسم کے کتب خانے موجود ہیں میں اس بات کو بیان کرتا ہوں کہ قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میرے اندر ہر قسم کے کتب خانے موجود ہیں۔چنانچہ قرآن کریم کی سورۃ التینہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ اَهْلِ الْكِتَبِ وَالْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّيْنَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ۔رَسُولٌ مِّنَ اللهِ يَتْلُوا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً فِيْهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ : یعنی اہل کتاب اور مکہ کے مشرک کبھی بھی اپنی شرارتوں سے باز نہیں آ سکتے تھے جب تک اِن کے پاس کوئی بڑی دلیل آتی ہے لیکن دلیل کئی قسم کی ہوتی ہے۔ایک دلیل وہ ہوتی ہے جو خارجی ہوتی ہے اور ایک دلیل اندرونی ہوتی ہے۔یہ لوگ باہر کی دلیل کو کبھی قبول نہیں کر سکتے تھے اس لئے اُن کے اندر ایک رسول آنا چاہئے تھا اور رسول بھی ایسا آنا چاہئے تھا جو ریفارمر (REFORMER ) ہی نہ ہو بلکہ اس کے ساتھ شریعت بھی ہو۔يَتْلُوا صُحُفًا مُطَهَّرَةً اور اُن کو وہ تمام کتب پڑھ کر سُنائے جو اُن کے باپ دادوں کے زمانہ میں نازل ہوئی تھیں مگر اُن میں جو حشو و زوائد پائے جاتے تھے وہ اُن میں سے نکال دے۔فِيهَا كُتُب قَيِّمة۔اور ایسی کتاب پڑھ کر سنائے جس میں تمام سابقہ کتب کی قائم رہنے والی تعلیمیں موجود ہوں اور پہلی کتابوں میں سے جو باتیں منسوخ ہو گئی ہوں وہ اس میں موجود نہ ہوں تب جا کر اُن کی اصلاح ہو سکتی ہے۔غرض قرآن کریم وہ کتاب ہے جس میں وہ تمام تعلیمیں موجود ہیں جو منسوخ نہیں ہوئیں۔کوئی قائم رہنے والی چیز چاہے وہ وید میں ہو ، ژنداوستا میں ہو، تو رات میں ہوا یسی نہیں کہ وہ قرآن کریم میں موجود نہ ہو۔اور کوئی کچی یا قائم رہنے والی تعلیم ایسی نہیں جو وید، ژند اوستا، تو رات یا اناجیل میں موجود ہو اور اس میں حشوت مل گیا ہو اور اُس کا ازالہ