سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 900

سیر روحانی — Page 56

ہوا ، ہارون نے انہیں کہا کہ زیور سونے کے جو تمہاری جو روؤں اور تمہارے بیٹوں اور تمہاری بیٹیوں کے کانوں میں ہیں تو ڑتوڑ کے مجھ پاس لاؤ ، چنانچہ سب لوگ سونے کے زیور جو اُن کے کانوں میں تھے تو ڑتوڑ کے ہارون کے پاس لائے اور اُس نے اُن کے ہاتھوں سے لیا اور ایک بچھڑا ڈھال کر اُس کی صورت حکاکی کے ہتھیار سے درست کی اور انہوں نے کہا کہ اے اسرائیل ! یہ تمہارا معبود ہے جو تمہیں مصر کے ملک سے نکال لایا ۵۲ گویا تو رات یہ کہتی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پہاڑ پر جانے کے بعد جب فتنہ پیدا ہو ا تو لوگوں نے حضرت ہارون علیہ السلام پر زور دینا شروع کیا کہ ہمیں ایک بُت بنا دو جس کی ہم پرستش کریں۔حضرت ہارون علیہ السلام نے کہا اپنے اپنے گھر سے زیور لے آؤ۔چنانچہ وہ زیور لائے اور انہوں نے اُن زیورات کو ڈھال کر ایک بُت بنا دیا اور کہا کہ یہی وہ تمہارا ہے جو تمہیں مصر کی زمین سے نکال لایا۔یہودی کہتے ہیں کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا الہام ہے مگر محققین کہتے ہیں کہ یہ الہام نہیں بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دو تین سو سال کے بعد اُس وقت کے حالات ہیں جو مورخین نے لکھے۔بہر حال کم سے کم یہ حضرت موسیٰ اور حضرت کی ہارون علیہما السلام کے قریب زمانہ کی لکھی ہوئی تاریخ ہے لیکن حضرت موسیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ساڑھے انیس سو سال کا فاصلہ ہے اور یہ کتاب جس میں حضرت ہارون علیہ السلام پر بُت گری کا الزام لگایا گیا قریباً سترہ اٹھارہ سو سال پہلے کی لکھی ہوئی ہے پس وہ کتاب جو قرآن مجید سے سترہ اٹھارہ سو سال پہلے لکھی گئی ، اس میں تو یہ لکھا ہے کہ حضرت ہارون نے زیورات کو ڈھال کر خود ایک بچھڑا بنایا اور لوگوں سے کہا کہ یہی وہ تمہارا خدا ہے جو تمہیں مصر کے ملک سے نکال لایا ، مگر جب ہم قرآنی آثار قدیمہ کو دیکھتے ہیں تو وہاں یہ لکھا ہوا پاتے ہیں کہ وَلَقَدْ قَالَ لَهُمْ هَارُونُ مِنْ قَبْلُ يَقَوْمِ إِنَّمَا فُتِتُم بِهِ وَإِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمَنُ فَاتَّبِعُونِي وَاَطِيْعُوا اَمْرِئ ۵۳ کہ موسیٰ کے جانے کے بعد جب لوگوں نے ایک بچھڑا ڈھال کر اُسے اپنا معبود بنالیا تو ہارون نے اُن سے کہا کہ اے لوگو! بد معاشوں نے تمہیں دھوکا میں ڈال دیا ہے اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمنُ تمہارا رب تو وہ ہے جو رحمن ہے جو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے فَاتَّبِعُونِی پس تم میری اتباع کرو اُن بد معاشوں کی اتباع نہ کرو جنہوں نے تم کو غلط راستہ پر ڈال دیا ہے۔یہ وہ چیز ہے جو مجھے قرآنی آثار قدیمہ میں سے ملی۔اس کے بعد میں نے بائبل کو کی