سیر روحانی — Page 756
۷۵۶ فَذَلِكَ الَّذِي يَدُعُ الْيَتِيمَ لا وَلَا يَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ فَوَيْلٌ لِلْمُصَدِّينَ ) لا الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلاتِهِمْ سَاهُونَ لا الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُ وُنَ وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ یعنی کیا تجھے اس شخص کا حال معلوم نہیں جو دین اسلام کے احکام کو جھٹلاتا ہے۔یہی وہ شخص ہے جو یتیم کو دھکے دے کر اپنے گھر سے نکال دیتا ہے۔یعنی ڈرتا ہے کہ کہیں یتیم کو کھانے میں سے کچھ حصہ نہ دینا پڑے اور اُسے لنگر سے محروم رکھنا چاہتا ہے اور نہ صرف آپ قیموں کو کھانے سے محروم رکھتا ہے بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی غریب کو کھانا کھلانے کی تحریص نہیں دلاتا۔پس یا درکھ کہ ایسا آدمی کبھی کچی عبادت نہیں کر سکتا بلکہ اُس کی عبادت دکھا وے کی ہوتی ہے اور ایسا شخص یہی نہیں کہ عالیشان دعوتوں سے غریبوں کو محروم رکھتا ہے بلکہ چھوٹی چھوٹی چیز میں اُدھار دینے سے بھی روکتا رہتا ہے اور اس طرح خدائی لنگر کو ہمیشہ کے لئے بند کرنا چاہتا ہے سو اس کے لئے ایک بہت بڑا عذاب مقد رہے۔ایک مثال قرآن کے لنگر کی اس آیت میں غرباء ومساکین کو کھانا کھلانے اور بیان کی گئی ہے کہ لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوا اُن کی ضروریات کو پورا کرنے کا حکم وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَئِكَةِ وَالْكِتَبِ وَالنَّبِيِّنَ وَاتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَعْمَى وَالْمَسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَ السَّائِلِينَ وَ فِي الرِّقَابِ۔استجگہ ہر کا لفظ آیا ہے جس کے معنے بہت بڑی نیکی کے ہوتے ہیں مگر چونکہ یہ مصدر ہے اور عربی زبان میں مصدر بمعنی فاعل بھی آجاتا ہے اور بمعنی مفعول بھی ، اس لئے اس آیت کے یہ معنی ہونگے کہ بڑا نیکی کرنے والا وہ نہیں ہے جو صرف مشرق اور مغرب کی طرف منہ پھیر کر ظاہری نماز پڑھ لیتا ہے بلکہ بڑا نیکی کرنے والا یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل متبع وہ ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور ملائکہ پر اور کتب سماویہ پر اور سارے نبیوں پر ایمان لاتا ہے اور اپنے مال کو باوجود گی کے اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے غریبوں میں تقسیم کرتا رہتا ہے یعنی قرآنی لنگر کی یاد میں دُنیاوی لنگر کو قائم رکھتا ہے۔پس جس کو خدا تعالیٰ توفیق دے اُسے اس لنگر کو ہمیشہ جاری رکھنا چاہئے ورنہ یا درکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قیامت کے دن اُسے سخت عذاب دیا جائیگا۔لوگ یوں تو دُعائیں مانگتے رہتے ہیں کہ یا اللہ ! عذاب قبر سے بچائیو۔یا اللہ ! دوزخ