سیر روحانی — Page 743
۷۴۳ کوئی بات کہا کریں تو کبھی نہ مانا کرو۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم دعوی نبوت سے پہلے ایک دفعہ حلف الفضول میں شامل ہو گئے تھے۔مظلوم اور تم رسیدہ انسان سے حسن سلوک یہ ایک مجلس تھی جو فضل نامی تین چار آدمیوں نے قائم کی اور انہوں نے ایک دوسرے سے قسمیں لی تھیں کہ جب کوئی مظلوم مکہ میں آئے اور وہ ہم سے مدد مانگے تو ہم اُس کی ضرور مدد کرینگے۔جب یہ مجلس قائم ہوئی تو انہوں نے آپ کو بھی اُس میں شامل ہونے کی دعوت دی ، آپ بڑے شوق سے شامل ہو گئے۔اس کے بعد دعوی نبوت کے زمانہ میں ایک شخص باہر سے آیا اور کہنے لگا ابو جہل نے مجھ سے مدت ہوئی قرض لیا تھا مگر اب وہ دیتا نہیں۔آپ حلف الفضول میں شامل رہ چکے ہیں آپ مجھ کو میرا قرض واپس دلائیں۔آپ نے فرمایا اچھا میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔چنانچہ آپ گئے ، ابو جہل کا دروازہ بند تھا، آپ نے دستک دی۔ابو جہل آیا اور اُس نے دروازہ کھولا اور آپ کو دیکھ کر ذرا پیچھے ہٹ گیا اس خیال سے کہ میں اس کا اتنا بڑا دشمن ہوں اسکو میرے دروازہ پر آنے کی جرات کس طرح ہوئی؟ آپ نے فرمایا تم نے اِس کا کچھ قرض دینا ہے؟ وہ انکار نہ کر سکا اور کہنے لگا ہاں میں نے اس سے قرض لیا ہوا ہے مگر اب تک مجھے اُس کے ادا کرنے کا موقع نہیں ملا۔آپ نے فرمایا کہ موقع کا سوال نہیں تم مالدار آدمی ہو فوراً اس کا قرض ادا کر دو۔وہ اندر گیا اور جتنا روپیہ قرضہ تھا اُتنا ہی رو پیدا سے لا کر دے دیا۔^1 ابو جہل کیلئے ایک خدائی نشان جب وہ اپنے معمول کے مطابق کعبہ میں آیا تو سب مکہ کے لوگوں نے اُسے کہا کہ تم بڑے ذلیل آدمی ہو۔ہمیں تو یہ کہا کرتے تھے کہ اسکی بات نہ مانو اور آج کسی غیر جگہ نہیں بلکہ اپنے گھر پر جب اُس نے تم کو کہا کہ اس کا قرض ادا کر دو تو تم نے فوراً اس کا قرض ادا کر دیا اور ڈر گئے اِس سے پتہ لگتا ہے کہ تم ہم کو غلط راستہ پر چلاتے ہو ورنہ خود تم میں کوئی ہمت نہیں۔اُس نے کہا۔خدا کی قسم ! اگر تم میری جگہ ہوتے تو تم بھی اسی طرح قرضہ ادا کر دیتے۔انہوں نے پوچھا کیا ہو ا تھا ؟ وہ کہنے لگا جب میں نے دروازہ کھولا اور مجھے پتہ لگا کہ محمد ( رسول اللہ ) ہیں تو میں نے دیکھا کہ ایک وحشی اونٹ آپ کے دائیں بازو پر کھڑا ہے اور ایک وحشی اونٹ آپ کے بائیں بازو پر کھڑا ہے اور دونوں نے اپنے سر آگے کئے ہوئے ہیں اور وہ مجھے کاٹنا چاہتے ہیں۔میں اُن وحشی اونٹوں