سیر روحانی — Page 734
۷۳۴ ہیں کہ یہ رمسیس کی لاش ہے اور ایک کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ منفتاح کی لاش ہے۔اب خواہ رعمسیں کی لاش کو فرعونِ موسی کی لاش سمجھ لو یا منفتاح کی لاش کو زمانہ ء موسی کے فرعون کی لاش کہو بات تو وہی رہی جو قرآن نے کہی تھی اور پتہ لگ گیا کہ جو کچھ قرآن نے کہا تھا وہ سچ تھا۔فرعون موسٹی کی لاش محفوظ رہی اور وہ اب تک محفوظ چلی آ رہی ہے۔حضرت سلیمان علیہ السلام پر بائیبل کے الزامات دوسری مثال کے طور پر میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا واقعہ پیش کرتا ہوں۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ کے کا فر بھی اُن کو کافر کہتے تھے۔جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَنُ وَ لكِنَّ الشَّيطِينَ كَفَرُوا على یعنی سلیمان نے ہر گز کفر نہیں کیا بلکہ اس کے دشمن جو خدا سے دُور تھے وہ سلیمان کو کافر کہہ کے خود کا فر ہو گئے تھے۔اس آیت میں تمہارے لئے بھی ایک بڑا بھاری نکتہ ہے اور وہ یہ کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ صرف شریعت والے نبی کا انکار کفر ہوتا ہے دوسرے نبیوں کا انکار کفر نہیں ہوتا حضرت سلیمان کو نہ یہودی صاحب شریعت مانتے ہیں اور نہ مسلمان صاحب شریعت مانتے کہتے ہیں کہ وہ غیر شرعی نبی تھے مگر خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ وَلَكِنَّ الشَّيطِينَ كَفَرُوا جو لوگ اُس کے دشمن تھے اور کہتے تھے کہ اس نے کفر کیا ہے وہ خود کافر تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ غیر شرعی انبیاء کا انکار بھی کفر ہی ہوتا ہے پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منکرین بھی اگر کہیں کہ مرزا صاحب تو شریعت لانے والے نبی نہیں تھے پھر اُن کے منکر کا فرکس طرح ہو گئے تو وہ اس بہانہ سے بچ نہیں سکتے۔مولوی محمد علی صاحب ہمیشہ زور دیا کرتے تھے کہ شریعت والے نبی کا انکار ہی کفر ہوتا ہے مگر خدا تعالیٰ اس آیت میں صاف طور پر فرماتا ہے کہ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَنُ وَ لكِنَّ الشَّيطِيْنَ كَفَرُوا سلیمان نے کفر نہیں کیا تھا بلکہ اس کے دشمنوں نے اُس کو کا فرکہہ کے خود کفر کیا۔پس جو شخص کسی بچے فرستادہ یا اُس کے ماننے والوں کو کا فرکہتا ہے وہ قرآن کریم کی رُو سے خود کا فر ہو جاتا ہے بلکہ اگر اِن الفاظ پر زیادہ وسیع نظر سے غور کیا جائے تو درحقیقت اس کے یہ معنے بنتے ہیں کہ کوئی کافر کہے یا نہ کہے پھر بھی صرف انکار سے وہ کافر ہو جاتا ہے۔اب میں بتاتا ہوں کہ قرآن کریم نے تو یہ کہا ہے کہ سلیمان نبی تھا کا فرنہیں تھا مگر بائبل جو سلیمان کے وقت کی لکھی ہوئی ہے وہ کیا کہتی ہے؟ بائبل کی کتاب ” سلاطین میں لکھا ہے :-