سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 714 of 900

سیر روحانی — Page 714

۷۱۴ اب میں اپنے اصل مضمون یعنی باغات کو لیتا قرآنی باغات بھی سب جوڑا جوڑا ہیں ہوں۔جتنے باغات میں نے اپنے سفر حیدر آباد میں دیکھے تھے وہ سب ایک ایک تھے مگر قرآن کریم نے جن باغات کو پیش کیا ہے وہ جوڑا ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں جنت کا ایک نام نہیں بلکہ چار نام آئے ہیں۔جنتِ عَدْنَ ، جنتِ مأوى جنَّتِ نَعِیم اور جنتِ فِردَوس۔گویا جنتوں کو صرف جوڑا ہی نہیں بتایا بلکہ دو جوڑے (یعنی چار ) بتایا ہے۔اور اس طرح اُس چیز کو جس کو غیر فانی قرار دیا گیا تھا تو حید کے راستہ سے ہٹا کر توحید کی دلیل بنا دیا ہے۔کیونکہ جنت کے متعلق کہا گیا تھا کہ وہ عدن ہے اور خُلد ہے یعنی دائمی طور پر رہنے والی ہے۔اور چونکہ غیر فانی چیز میں خدائی پائی جاتی ہے اس لئے شبہ ہوسکتا تھا کہ شاید جنت میں بھی خدائی پائی جاتی ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے بتایا کہ نہیں وہ بھی جوڑا ہے اور چونکہ وہ جوڑا ہے اس لئے اُسے بھی خدا تعالیٰ کے مقابل میں کھڑا نہیں کیا جاسکتا اور اس کے اندر کوئی خدائی نہیں پائی جاتی۔اسی طرح وہ چیز جو خدا تعالیٰ کی احدیت میں شبہ پیدا کر سکتی تھی اُس کو بھی جوڑا بنا کر خدا تعالیٰ کی احدیت کو پھر قائم کر دیا اور وہی چیز جو توحید میں شبہ ڈال سکتی تھی اُس کو تو حید کی دلیل بنا دیا ہے۔پھر اگلی دنیا میں جن جنتوں کا ذکر کیا ہے اُن میں سے ہر ایک جنت کو پھر جوڑا قرار دیا گیا ہے گویا اس طرح چار جنتوں کو آٹھ جنتیں بنا دیا ہے۔چنانچہ سورۃ رحمن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَجَنَا الْجَنَّتَيْنِ دَان۔یعنی اگلے جہان کی ہر جنت جنتِ نَعِیم ہو یا جنتِ مأوى ، جنتِ فِردَوس ہو یا جنتِ عَدْنٍ اس کے بھی دو دو حصے ہونگے اور اس کے ہر حصہ کا پھل جھکا ہوا ہو گا۔اول تو جت نعیم اکیلی نہیں۔جنتِ نَعِیم کے ساتھ جنتِ عَدْنٍ بھی ہے۔اور پھر جنت ماوی بھی ہے او ر جنت فردوس بھی ہے گویا چار جنتیں ہیں۔مگر وہ چاروں جنتیں آگے پھر دو دو جنتیں ہیں اور ان کے ہر حصہ کا پھل جھکا ہوا ہوگا اور مؤمن کو آسانی سے مل جائے گا۔پھر اس دنیا کی جنتوں کا جہاں ذکر فرماتا ہے وہاں بھی قوم عاد کے دو باغات کا ذکر اُس کو جوڑا کی شکل میں ظاہر کرتا ہے چنانچہ قرآن کریم میں جہاں ایک قوم کے باغوں کا ذکر آتا ہے وہاں بھی اُسکو دو باغ قرار دیا ہے فرماتا ہے وَبَدَّلْنَهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ ذَوَاتَى أَكُل خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَشَيْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِيل كا یعنی عاد کی قوم کے پاس بھی دو جنتیں تھیں۔ہم نے ان جنتوں کو تباہ کر دیا اور اُس کی جگہ نہایت