سیر روحانی — Page 708
۷۰۸ کے ہاں کوئی بیٹا ہو اُس کی ایک بیوی بھی ہوتی ہے غرض جو بیٹا جنے یا کسی کا بیٹا ہو وہ احد نہیں ہو سکتا۔عیسائیت جو حضرت مسیح کے ابن اللہ ہونے پر ناز کرتی ہے درحقیقت وہ دوسرے لفظوں میں مسیح کو ابن اللہ ہونے سے جواب دیتی ہے۔کیونکہ اگر وہ ابن اللہ ہے تو وہ جوڑا ہے خالق نہیں۔وہ منفرد نہیں ، وہ محتاج ہے ایک باپ کا جو اس کو وجود میں لایا ہے۔وہ محتاج ہے ایک ماں کا جو اس کو وجود میں لائی ہے۔اور جب وہ مخلوق ہوا تو وہ محتاج ہے بیوی کا بھی تا کہ وہ اولاد پیدا کرے اور اگر وہ بیوی کا محتاج نہیں تو مخنث ہے جو ذلیل ہوا کرتا ہے۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ہر چیز کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے تا کہ تم اس سے نصیحت حاصل کرو۔ایک نصیحت تو یہ حاصل کرو کہ جب ساری مخلوق کو دیکھو کہ وہ جوڑا جوڑا ہے تو سمجھ جاؤ کہ وہ مخلوق ہے اور خدا نے پیدا کی ہے۔دوسرے تم سمجھ لو کہ جو جوڑا نہیں وہ خالق ہے اور وہ ایک ہی ہے اور وہی سچا احمد ہے اور کوئی احمد نہیں ہو سکتا اس لئے وہ مخلوق بھی نہیں ہو سکتا اور اس طرح توحید کامل پر قائم ہو جاؤ۔مخلوق کے بارے ہر چیز کے جوڑا ہونے کے بارہ میں قرآن کریم کا بے مثال علمی نکتہ میں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے سب کو جوڑا جوڑا بنایا ہے۔یہ علم بھی قرآن کریم سے پہلے کسی کو معلوم نہیں تھا۔سارا وید پڑھ جاؤ، ساری بائبل پڑھ جاؤ، ساری انجیل پڑھ جاؤ ، ساری ژند اوستا پڑھ جاؤ ، یونان کے فلاسفروں کی کتابیں پڑھ جاؤ ، ہندوستان کے فلاسفروں کی کتابیں پڑھ جاؤ، چین کے کنفیوشس نبی کی کتابیں پڑھ جاؤ ، شنٹو ازم جو جاپان کا مذہب ہے اُس کی کتا میں پڑھ جاؤ غرض بدھوں کی کتابیں پڑھو، یہودیوں کی پڑھو، عیسائیوں کی پڑھو، ہندوؤں کی پڑھو، یونانیوں کی پڑھو، کسی مذہب کی کتاب پڑھو، یہ نکتہ تمہیں کہیں نظر نہیں آئے گا کہ ہر چیز کا جوڑا ہے۔صرف قرآن کریم ایک کتاب ہے جو کہتی ہے کہ ہم نے ہر چیز کو جوڑا پیدا کیا ہے۔اور یہ جوڑے اس کی لئے پیدا کئے ہیں تا کہ ان کی حکمت سے تمہیں خدا کی توحید کی طرف توجہ ہو۔یہ علم جو قرآن کریم سے پہلے کسی کو نہیں تھا حتی کہ الہامی کتابوں میں بھی نہیں تھا۔نہ ویدوں میں تھا، نہ بدھ کی پستکوں سے میں تھا، نہ یونانیوں کی کتابوں میں تھا، نہ ایرانیوں کی کتابوں میں تھا، نہ یہودیوں کی کتابوں میں تھا، نہ عیسائیوں کی کتابوں میں تھا۔اسبارہ میں بہت ہی محدود علم عربوں کو حاصل تھا۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ محدود علم بھی حاصل نہیں تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن کریم خدا کی