سیر روحانی — Page 707
بسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ (۱۰) ( تقریر فرموده مورخه ۲۸ دسمبر ۱۹۵۶ء بر موقع جلسه سالانه ربوہ ) قرآنی باغات تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا :- پیشتر اس کے کہ میں اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کروں اور اُن باغات کے مقابلہ میں جو میں نے اپنے سفر حیدر آباد میں دیکھے تھے اُن روحانی باغات کا ذکر کروں جو قرآن کریم نے پیش کئے ہیں میں تمہیدی طور پر بعض امور کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جن کا میرے اس مضمون کے ساتھ تعلق ہے۔یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام کی بنیا د توحید خالص پر اسلام کی توحید خالص پر بنیاد ہے اور سورۃ اخلاص اس تو حید کا معیار ہے۔قرآن کریم اس بات پر زور دیتا ہے کہ سوائے خدا تعالیٰ کے سب چیزیں جوڑا جوڑا ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ خدا تعالی خالق ہے اور باقی چیزیں مخلوق ہیں کیونکہ احد وہی ہوسکتا ہے جو جوڑا نہ ہو۔جو جوڑا ہو اس کا مخلوق ہونا ضروری ہے۔چنانچہ سورہ ذاریات میں آتا ہے۔وَ مِنْ كُلِّ شَيْ : خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ یعنی جتنی چیزیں ہم نے پیدا کی ہیں ان سب کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے تا کہ تم اس سے نصیحت حاصل کرو۔یعنی دُنیوی چیزوں کو جوڑا جوڑا پیدا کرنے سے یہ غرض ہے کہ تم سوچو کہ جب ہر چیز جوڑا ہے تو معلوم ہوا کہ ہر چیز مخلوق ہے اور اس کا کوئی خالق ہے۔اور جب خدا جوڑا نہیں تو معلوم ہوا کہ اللہ احمد ہے، اللہ صمد ہے۔وہ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ ہے۔جو شخص کسی کا بیٹا ہوتا ہے وہ جوڑا ہوتا ہے اور اس کا ایک باپ اور ایک ماں ہوتی ہے۔اور جس