سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 900

سیر روحانی — Page 49

۴۹ قرآن کریم سے اخذ کر کے بیان کیا ہے ایسا واضح ہے کہ موجودہ تحقیق اِس سے بڑھ کر کوئی بات بیان نہیں کر سکتی ، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آدم کے متعلق کوئی تاریخ ایسا علم مہیا نہیں کرتی جیسا علم کہ قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے۔ڈارون تھیوری پر اہل یورپ کو بہت کچھ ناز ہے مگر سچ بات یہ ہے کہ ڈارون تھیوری بھی اس کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتی۔وہ نہایت ہی بیوقوفی کی تھیوری ہے جو اہلِ مغرب کی طرف سے پیش کی جاتی ہے۔میں ہمیشہ اس تھیوری کے پیش کرنے والوں سے کہا کرتا ہوں کہ اچھا جس چیز سے انسان پہلے بنا تھا اُس چیز سے اب کیوں نہیں بن سکتا ؟ میں نے دیکھا ہے جب بھی میں یہ سوال کروں وہ عجیب انداز میں سر ہلا کر گویا کہ میں اس تھیوری سے بالکل ناواقف ہوں کہہ دیتے ہیں کہ تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ یہ تغیر لاکھوں بلکہ کروڑوں سال میں ہوا ہے ، میں انہیں یہ کہا کرتا ہوں کہ اس زمانہ میں جو جانور موجود ہیں ان پر بھی لاکھوں کروڑوں سال گزرچکے ہیں پھر وہ تغیر کیوں بند ہو گیا ہے اس میں شک نہیں کہ آدم سے لے کر اس وقت تک لاکھوں کروڑوں نہیں ہزاروں سال گزرے ہیں، لیکن حیوانات آدم کے زمانہ سے تو شروع نہیں ہوئے وہ تو لاکھوں کروڑوں سال ہی سے موجود ہیں اور آدم کے بعد کے زمانہ نے اس میں کسی قدر زیادتی ہی کی ہے۔پس لاکھوں کروڑوں سالوں کے بعد جو تغیر ہونا ضروری تھا وہ آج بھی اسی طرح ہونا چاہئے جس طرح کہ ہزاروں سال پہلے ہو ا تھا، کیونکہ زمانہ اس کے بعد ممتد ہو رہا ہے سکڑ نہیں رہا۔بلکہ حق یہ ہے کہ لاکھوں کروڑوں سال کے بعد جو تغیر حیوانات میں ہو ا تھا وہ کی پہلی دفعہ کے بعد جاری ہی رہنا چاہئے تھا کیونکہ لاکھوں کروڑوں سالوں بعد جن تغیرات سے بشر کا مورث اعلیٰ جانور پیدا ہوا تھا اگلی صدی میں اور اس سے اگلی صدی میں اور بعد کی بیسیوں اور صدیوں میں بقیہ جانوروں پر اس سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے جس قدر کہ پہلے تغیر کے وقت گزرا تھا۔پس اگر اس قسم کا تغیر ہو ا تھا جس کا ذکر ڈارون کے فلسفہ کے قائل کرتے ہیں تو بعد میں وہ تغیر بند نہیں ہونا چاہئے تھا بلکہ جاری رہنا چاہئے تھا سوائے اس صورت کے کہ سابق کے تغیرات ایک بالا رادہ ہستی نے ایک خاص غرض اور مقصد کے ماتحت پیدا کئے ہوں اور ان اغراض و مقاصد کے پورا ہونے پر اسی سلسلہ کو بند کر دیا ہوا اور یہی ہمارا عقیدہ ہے۔شجرہ آدم کیا چیز ہے؟ اب میں اس سوال کو لیتا ہوں کہ شجرہ آدم کیا چیز ہے میں نے دیکھا ہے بعض لوگوں کو ہمیشہ یہ خیال رہتا ہے کہ وہ شجرہ کیا چیز تھی جس کے قریب جانے سے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو روکا ، مگر میں کہتا ہوں اس