سیر روحانی — Page 667
۶۶۷ گئے غرض اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کی حفاظت کی اور وہ جائداد پھر محفوظ کی محفوظ رہ گئی۔اس مقدس جاگیر کو چھینے کی کوئی شخص طاقت نہیں رکھتا یہ وہ جائداد ہے جسکے مقابلہ میں دنیا کی کوئی اور جائداد پیش نہیں کی جا سکتی۔وہ حکومتیں بدل گئیں جن کے سپر د جائداد کی گئی تھی ، ابراہیم چلا گیا ، اسمعیل چلا گیا ، وہ جن کو یہ جائداد دی گئی تھی ختم ہو گئے نئی حکومتیں اور نئی بادشاہتیں آگئیں۔یمن کا عیسائی بادشاہ اس ملک پر قابض ہو کے آ گیا لیکن اس جائداد کے متعلق اُس نے فرمایا کہ خبردار! اگر اس کو چھیڑا تو ہم فوراً سیدھا کر دیں گے اور جب وہ باز نہ آیا تو اُس کو سیدھا کر دیا۔چنانچہ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحِبِ الْفِيلِ۔اَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَ هُمْ فِي تَضْلِيلٍ " پتہ ہے اُن لوگوں کے ساتھ ہم نے کیا کیا ؟ اُن کے بڑے بڑے بُرے ارادے تھے پر میں نے اُن کے ارادوں کو کچل کر رکھ دیا اور اپنی جاگیر کو محفوظ رکھا کیونکہ ہم نے کہا میں خدا اس جاگیر کا دینے والا ہوں کوئی انسان اس کو چھین نہیں سکتا۔گزشتہ جنگ عظیم میں اٹلی کا ناپاک ارادہ اور اُس کی ناکامی پھر اس کے بعد اسلام کی حکومت رہی۔خانہ کعبہ کی حفاظت کرنے والے لوگ موجود رہے لیکن جب پچھلی جنگ آئی تو پھر ایسی حکومتیں پیدا ہوئیں جنہوں نے یہ بدارادہ کیا کہ ترکوں کو اُس وقت تک شکست نہیں دی جاسکتی جب تک کہ مکہ کو نہ لیا جائے۔چنانچہ اٹلی نے یہ ارادہ ظاہر کیا مگر انگریزوں اور دوسری قوموں نے اُس کو کہا کہ اس کی ہم ہر گز اجازت نہیں دینگے کیونکہ اگر تم نے ایسا کیا تو ساری اسلامی دنیا ہمارے خلاف ہو جائیگی اور یہ جنگ جیتنی ہمارے لئے مشکل ہو جائیگی چنانچہ خدا تعالیٰ نے پھر ایسے سامان کر دیئے کہ مکہ محفوظ کا محفوظ رہا۔یہ جاگیر بیت اللہ کی تقدیس اور اُس کی عظمت کا زمانہ قدیم سے اعتراف آنتی براتی ہے کہ یونان کے مؤرخ حضرت مسیح کی پیدائش سے پہلے لکھتے ہیں کہ تاریخ کا جب سے پتہ لگتا ہے یہ مقام عرب میں مقدس چلا آ رہا ہے اور لوگ اس کی زیارت کو جاتے ہیں۔تاریخ کہیں نہیں بتاتی کہ یہ کب سے بنا ہے؟ اتنی پرانی جاگیر تو دنیا میں الگ رہی اس کا سواں حصہ بھی