سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 660 of 900

سیر روحانی — Page 660

۶۶۰ بادشاہ نے ایک بڑا در بار اس کے اعزاز میں منعقد کیا اور کہا کہ اس کو خلعت دیا جائے۔چنانچہ وہ دربار میں آیا اور اُس کو خلعت پہنایا گیا۔پُرانے زمانہ میں یہی طریق رائج تھا جیسے آجکل خطاب وغیرہ دیتے ہیں تو دربار لگتے ہیں اسی طرح دربار لگایا گیا۔اتفاقاً شبلی بھی اُن دنوں کی اپنے کام کی کوئی رپورٹ دینے آئے ہوئے تھے چنانچہ وہ بھی دربار میں بُلائے گئے۔سب لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور اوپر وہ جرنیل بیٹھا ہوا تھا کہ بادشاہ نے پہلے اُس کی تعریف میں کچھ کلمات کہے، اس کے بعد کہا کہ اس کو خلعت پہنایا جائے۔چنانچہ اسے ایک طرف کمرہ میں لے گئے اور اس کو خلعت پہنایا گیا۔بدقسمتی سے وہ اُسی دن سفر سے آیا تھا کہیں سفر میں اُسے ہؤ ا لگی یا کچھ اور ہو ا جس کی وجہ سے اُس کو شدید نزلہ ہو گیا اور گھر سے چلتے وقت وہ رومال لا نا بھول گیا۔جب بادشاہ کے سامنے آیا تو یکدم اُسے چھینک آئی اور چھینک سے رینٹھ نکل کے ہونٹوں پر آگئی۔اب اگر وہ رینٹھ کے ساتھ بادشاہ کے سامنے کھڑا رہتا ہے تو بادشاہ خفا ہوتا ہے اور اگر پونچھتا ہے تو رو مال نہیں۔اُس نے اِدھر اُدھر نظر بچا کے اُسی خلعت کا ایک پہلولیا اور ناک پونچھ لیا۔بادشاہ نے دیکھ لیا اُسے سخت غصہ چڑھا اور کہنے لگا۔ہم نے تمہارا اتنا اعزاز کیا۔تمہیں خلعت دی اور تمہیں اتنا نوازا اور تم نے اتنی تحقیر کی ہے کہ اس کے ساتھ ناک پو نچھتے ہو۔فوراً یہ خلعت اُتار لیا جائے اور اس کو جرنیلی سے موقوف کیا جائے۔خیر وہ بیچارہ تو کیا کر سکتا تھا خلعت اُتارنے لگے تو شبلی نے دربار میں چینیں مارنی شروع کر دیں کہ ہائے میں مر گیا۔بادشاہ حیران ہوا کہ یہ خواہ مخواہ کیوں شور مچا رہا ہے۔چنانچہ بادشاہ نے کہا تم کو کیا ہو ا ہم اس پر خفا ہوئے ہیں تم کیوں خواہ مخواہ رو رہے ہو؟ اُس نے کہا بادشاہ سلامت ! میں نہیں روؤ نگا تو کون روئے گا اس شخص نے سال بھر ہر صبح سے شام تک اپنی بیوی کو بیوہ کیا، سال بھر میں ہر صبح سے شام تک اس نے اپنے بچوں کو یتیم کیا، محض آپ کی خوشنودی کے لئے اور بارہ مہینے اس نے اپنے آپ کو قتل و غارت اور خون کے آگے ہدف بنایا صرف اس لئے کہ آپ کی رضاء حاصل ہو جائے اور جب اتنی قربانی کے بعد یہ آیا اور آپ نے اس کو دس ہزار یا بیس ہزار کا خلعت بھی دے دیا اور اس قربانی کے مقابلہ میں بلکہ اس کی ایک دن کی قربانی کے مقابلہ میں بھی تو یہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا مگر آپ نے اس پر اتنے غصے کا اظہار کیا کہ اس نے میرے خلعت کی ہتک کی ہے اور اس سے ناک پونچھ لیا ہے اور اس قدر ناراض ہو گئے کہ کہا اس کو نکال دو، یہ بڑا خبیث اور بے ایمان ہے۔تو حضور یہ کان، ناک، آنکھ یہ جسم کی خلعت جو خدا نے مجھے پہنائی ہے میں روز آپ کی