سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 650 of 900

سیر روحانی — Page 650

ایسا کام کرے گا تو اس کا یہ نتیجہ نکلے گا۔مثلاً اگر مرچیں کھائے گا تو زبان جلے گی ، اگر ترشی کھائے گا تو نزلہ ہو جائے گا اور گلا خراب ہو جائے گا، اگر کوئی سخت چیز کھا لے گا تو پیٹ میں درد ہو جائے گا یہ تقدیر اور قسمت ہے۔یہ تقدیر اور قسمت نہیں کہ فلاں شخص ضرور ایک دن سخت چیز کھائے گا اور پیٹ میں درد ہو جائے گا یہ جھوٹ ہے۔خدا ایسا نہیں کرتا۔قرآن اس سے بھرا پڑا ہے کہ یہ باتیں غلط ہیں۔پس یہ جو ہمیشہ سے لکھا ہوا ہوتا ہے اس کا تقدیر اور قسمت سے کوئی تعلق نہیں اس لئے کہ تقدیر اور قسمت تب بنتی ہے جب خدا کے لکھے ہوئے کے ماتحت انسان کام کرے۔اگر یہ ضروری ہو کہ جو کچھ خدا نے لکھا ہے اُسی کے مطابق اس کو کام کرنا چاہئے تو پھر یہ جبر ہو گیا اور تقدیر اور قسمت ٹھیک ہو گئی لیکن جو قرآن سے تقدیر ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ خدا اس بات میں بندے کے تابع ہوتا ہے اور جو اس بندے نے کام کرنا ہوتا ہے خدا اُسے لکھ لیتا ہے۔تقدیر اور قسمت تو تب ہوتی جب خدا مجبور کرتا اور یہ بندہ خدا کے جبر سے وہ کام کرتا لیکن واقعہ یہ ہے کہ بندہ وہ کام کرتا ہے اور خدا اس کے جبر کے ماتحت وہی بات لکھتا ہے جو اُس نے کرنی ہے اس لئے یہ تو تم کہہ سکتے ہو کہ لکھنے کے بارہ میں خدا پر وہ تقدیر حاوی ہے جو انسانوں پر قیاس کی جاتی ہے۔یہ تم نہیں کہہ سکتے کہ بندوں کی قسمت میں خدا نے جبر کر کے کوئی اعمال لکھے ہوئے ہیں۔پھر اس دنیا میں قاعدہ ہے کہ لوگ عالم روحانی میں مجرموں کے فیصلہ کی نقول رکگار کی کاپی ، لکھتے ہیں۔انہیں خیال مانگتے ہوتا ہے کہ ہم لوگوں کو دکھا ئیں گے اور غور کریں گے کہ یہ سزا ٹھیک ملی ہے یا نہیں ؟ اس غرض کے لئے لوگ ریکارڈ اور فیصلہ کی کاپی مانگتے ہیں اور اس کے بڑے فائدے ہوتے ہیں مگر اس دنیا کی گورنمنٹوں نے یہ طریق رکھا ہوا ہے کہ وہ پیسے لے کر ریکارڈ دیتی ہیں۔جب کوئی نقل لینے آتا ہے تو کہتے ہیں پیسے داخل کراؤ مثلاً پندرہ روپے یا ہمیں روپے یا پچیس روپے۔نقل نویسوں نے حرف گئے اور کہہ دیا کہ اتنے روپے داخل کرو تو ریکارڈ مل جائے گا۔پھر کہا کہ اگر جلدی نقل لینی ہے تو ڈبل یا تین گنا فیس دو۔میں نے دیکھا کہ آیا وہاں بھی کوئی نقل ملتی ہے یا نہیں ؟ اور آیا اُن کی تسلی ہوگی کہ گھر جا کر آرام سے بیٹھ کر دیکھیں گے کہ سزا ٹھیک ملی ہے ؟ جب میں نے غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہاں بھی نقلیں ملیں گی چنانچہ فرماتا ہے وَ أَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتْبَهُ بِشِمَالِهِ فَيَقُولُ يَدَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَبِيَهُ ، وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِيَهْ يَلَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ "