سیر روحانی — Page 627
۶۲۷ فلاں کام کیا ہے، فلاں کام کیا ہے لیکن اُن کے اِن کاموں کی کوئی خاص قدر نہیں ہوتی تھی۔سوائے اِس کے کہ بادشاہ کے دربار میں بڑی شہرت ہوتی تھی کہ اس نے فلاں کام کیا ہے۔عالم روحانی کے ڈائری نولیس اور ان کا اعلیٰ درجہ کا نظام اس کے مقابل پر میں نے قرآنی دفتر دیکھا تو اس میں میں نے یہ پایا کہ تھا تو وہ بھی اسی شکل میں منظم لیکن وہ ایسی صورت میں تھا کہ اُس میں کسی قسم کی بناوٹ یا کسی قسم کی غلط فہمی یا کسی قسم کا دھوکا یا کسی قسم کی سازش نہیں ہو سکتی تھی۔چنانچہ قرآنی دفتر میں بھی میں نے دیکھا کہ وہاں ڈائریوں کا انتظام ہے۔مگر ساتھ ہی یہ بھی تھا کہ وہاں جھوٹ کی آلائش بالکل نہیں تھی۔چنانچہ میں نے دیکھا کہ قرآن کریم میں لکھا ہو ا تھا وَ إِنَّ عَلَيْكُمْ لَحْفِظِينَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ یعنی تم پر ہماری طرف سے ڈائری نویس مقرر ہیں لیکن وہ ڈائری نویس حافظ ہیں۔یعنی ان کا یہی کام نہیں کہ تمہارے جرائم لکھیں بلکہ یہ کام بھی سپرد کیا گیا ہے کہ تمہیں جرائم کرنے سے روکیں۔اُن کا یہی کام نہیں کہ تمہارے اچھے کاموں کا ریکارڈ کریں بلکہ یہ بھی کام ہے کہ تمہیں اچھے کاموں میں زیادہ کامیاب ہونے میں مدد دیں۔كِرَامًا اور پھر یہ ڈائری نویس جو ہم نے مقرر کئے ہیں بڑے اعلیٰ درجہ کے اور اعلیٰ پایہ کے لوگ ہیں جو ہر قسم کی رشوت خوری سے بالا ہیں، سازش سے بالا ہیں ، جھوٹ سے بالا ہیں ، كَاتِبِينَ اور بڑے محتاط ہیں۔وہ یہ نہیں کرتے کہ اپنے حافظہ میں بات رکھیں بلکہ جیسے آجکل سٹینو ہوتا ہے وہ سٹینو کی طرح ساتھ ساتھ لکھتے چلے جاتے ہیں اور اس لکھنے کی وجہ سے اُن کی بات میں غلطی کا امکان نہیں ہوتا۔يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ۔اور جو کچھ تم کرتے ہو اس کو وہ جانتے بھی ہیں۔غرض قرآن کریم فرماتا ہے کہ ہمارے دنیوی اور روحانی ڈائری نویسوں میں امتیاز سلسلۂ روحانیہ میں بھی ڈائری نولیس ہیں لیکن وہ عام ڈائری نویسوں کی طرح جیسا کہ دنیوی حکومتوں میں ہوتا ہے غریب نہیں ہوتے ، چھوٹی تنخواہوں والے نہیں ہوتے کہ اُن کو رشوت خوری کی ضرورت ہو بلکہ اعلیٰ پایہ کے لوگ ہوتے ہیں وہ اعلیٰ اخلاق کے مالک ہوتے ہیں۔ان کو نہ کوئی خوشامد سے منا سکتا ہے، نہ رشوت دے سکتا ہے، نہ کسی کی کوئی دشمنی اس بات کی موجب ہو سکتی ہے کہ وہ غلط رپورٹ کریں بلکہ اُن کی ہر ایک رپورٹ اور ہر ایک کام سچ کے ساتھ ہوتا ہے اور باوجود اس کے کہ وہ بڑے دیانتدار