سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 610 of 900

سیر روحانی — Page 610

۶۱۰ کی شکایت کی کہ عرب میں ایک نبی پیدا ہوا ہے اور وہ طاقت پکڑ رہا ہے کسی وقت وہ تمہارے خلاف جنگ کرے گا۔وہ کچھ پاگل سا تھا۔یمن اُس وقت کسری کے ماتحت تھا اُس نے یمن کے گورنر کو حکم بھیجا کہ اس طرح عرب میں ایک مدعی پیدا ہوا ہے تم اُسے گرفتار کر کے میرے پاس بھجوا دو۔چونکہ یمن کا گورنر عرب کے لوگوں سے واقف تھا اُس نے خیال کیا کہ ان لوگوں نے کیا بغاوت کرنی ہے بادشاہ کو دھوکا لگا ہے۔اُس نے بادشاہ کے دوسفیروں کو بھیجا اور ساتھ وصیت کی کہ تم کوئی سختی نہ کرنا۔بادشاہ کو کوئی دھوکا لگا ہے ورنہ عربوں میں کیا طاقت ہے کہ انہوں نے کسری کا مقابلہ کرنا ہے۔تم جانا اور سمجھانا اور میری طرف سے پیغام دینا کہ آپ مقابلہ نہ کریں آجائیں۔میں سفارش کرونگا تو کسری انہیں کچھ نہیں کہے گا۔چنانچہ یہ لوگ مدینہ پہنچے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ نے فرما یا کس طرح آنا ہوا ؟ انہوں نے کہا ہمیں بادشاہ نے بھجوایا ہے۔اُس کے پاس کچھ شکائیتیں آئی ہیں جن کی بناء پر اُس نے کہا ہے کہ آپ کو اُس کے سامنے پیش کیا جائے اور ہم یمن کی طرف سے آئے ہیں کیونکہ وہ یہاں کے حالات کا واقف ہے۔اُس نے ہم کو نصیحت کی تھی کہ ہم آپ کو تسلی دلائیں کہ کسی نے بادشاہ کے پاس غلط رپورٹ کی ہے ورنہ ہمیں تسلی ہے کہ آپ نے کوئی شرارت نہیں کی۔میں بادشاہ کی طرف ساتھ چٹھی لکھدونگا کہ یہ غلط رپورٹ ہے اس کو کچھ نہ کہا جائے اور واپس کر دیا جائے اِس لئے آپ ہمارے ساتھ چلیں وہاں سے آپ کو گورنر یمن کی سفارش مل جائیگی اور اُمید ہے کہ وہ درگزر سے کام لے گا۔آپ نے فرمایا اچھا دو تین دن ٹھہرو پھر میں جواب دونگا۔انہوں نے کہا یہ ٹھیک نہیں ہے۔گورنر نے کہا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ آپ غلط فہمی میں رہیں اور جواب نہ دیں جس سے بادشاہ چڑ جائے اگر ایسا ہوا تو عرب کی خیر نہیں ، وہ اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گا آپ چلے چلیئے۔آپ نے فرمایا کوئی بات نہیں تم دو تین دن ٹھہر و۔پھر وہ دوسرے دن آئے۔تیسرے دن آئے۔لیکن آپ یہی کہتے رہے کہ ابھی ٹھہرو۔ابھی ٹھہر و۔تیسرے دن انہوں نے کہا کہ اب ہماری میعاد ختم ہو رہی ہے، بادشاہ ہم سے بھی خفا ہو گا آپ ہمارے ساتھ چلیں۔آپ نے فرمایا سُنو! آج رات میرے خدا نے تمہارے خدا کو مار ڈالا ہے جاؤ یہاں سے چلے جاؤ اور گورنر کو اطلاع دے دو۔اُن کو تو خدائی کلام کا کچھ پتہ ہی نہیں تھا۔انہوں نے سمجھا کہ شاید یہ گپ ماری ہے۔انہوں نے سمجھا نا شروع کیا کہ یہ نہ کریں۔دیکھیں آپ گورنر کی سفارش سے چُھوٹ کر آجائیں گے ورنہ عرب تباہ ہو جائے گا