سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 609 of 900

سیر روحانی — Page 609

۶۰۹ بادشاہ کا کیا تعلق ہے۔تم بندر کا تماشہ کرو تو اُس کے لئے بھی ہیں ہیں کر سکتے ہو۔کتے کا کھیل کھیلو تو اُس کے لئے بھی ہیں ہیں کر سکتے ہو ، بادشاہ اور دھم وھم اور ہیں ہیں کا کیا جوڑ ہے۔مگر یہاں جو نوبت خانہ بجتا ہے اُس میں بادشاہ کے دیدار کی بشارت دیتے ہوئے اُس کی حیثیت بھی پیش کی جاتی ہے اور ایک عجیب شاندار پیغام دنیا کو پہنچایا جاتا ہے۔مؤمنوں کو الگ اور منکروں کو الگ۔پھر اس نو بت خانہ کی چوٹ مُردہ چمڑہ پر نہیں پڑتی زندہ گوشت کے پردوں پر پڑتی ہے۔اور پانچ وقت اِس نوبت خانہ میں نوبت بجتی ہے کہ آجاؤ اپنے بادشاہ یعنی خدا کی زیارت کے لئے اور اعلان کرنے والا کھڑا ہوتا ہے اور کہتا ہے۔اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ۔اے لوگو! اپنے بادشاہ کی زیارت کے لئے آجاؤ۔ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ دُنیا میں لوگ اپنے بادشاہوں اور حاکموں کی زیارت کے لئے جاتے ہیں مگر اُن میں سے کوئی پچاس گاؤں کا مالک ہوتا ہے، کوئی سو گاؤں کا مالک ہوتا ہے، کوئی ہزار گاؤں کا مالک ہوتا ہے، کوئی ایک صوبہ کا مالک ہوتا ہے، کوئی ایک ملک کا مالک ہوتا ہے، کوئی پانچ ملک کا مالک ہوتا ہے، کوئی دس ملک کا مالک ہوتا ہے، پھر اُن میں سے کوئی ایسا ہوتا ہے کہ بڑے ملک کا مالک ہوتا ہے لیکن چھوٹے ملک کے بادشاہ اُس پر فاتح ہو جاتے ہیں۔جیسے سکندر یونان کا مالک تھا مگر کسری کو آ کے اُس نے شکست دیدی۔نادر شاہ ایک معمولی قبیلے کا بادشاہ تھا مگر اُس نے ہندوستان کی بادشاہت کو شکست دیدی۔تو اول تو اُس کی حکومتیں بہت چھوٹی ہوتی ہیں اور پھر حکومتوں کے مطابق اس کی طاقت بھی نہیں ہوتی۔اُن کی زیارت عمر میں کبھی ایک دفعہ نصیب ہوتی ہے مثلاً تاجپوشی ہوتی ہے اور وہ باہر نکلتے ہیں تو لوگ اُن کی زیارت کرتے ہیں۔مگر ہم تمہیں جس بادشاہ کی زیارت کے لئے بلاتے ہیں وہ سب سے بڑا ہے اور بڑے سے بڑا بادشاہ بھی اُس کے مقابل میں بالکل بیچ ہو جاتا ہے کسی کی طاقت نہیں کہ اُس کے آگے بول سکے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس زمانہ میں مبعوث ہوئے ہیں اُس زمانہ میں دنیا کی حکومت دوحصوں میں تقسیم تھی گرفتاری کیلئے کسری کا ظالمانہ حکم آدھی حکومت قیصر کے پاس تھی اور آدھی حکومت کسری کے پاس تھی۔مغرب پر قیصر حاکم تھا اور مشرق پر کسرای حاکم تھا۔یہودیوں نے ایک دفعہ کسری کے پاس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم