سیر روحانی — Page 594
۵۹۴ بھی اُن کا بڑا ادب کرتے تھے۔وہ گلی میں سے گزر رہے تھے اور اُس دن رولٹ ایکٹ کے خلاف جلسہ ہو رہا تھا۔ہندو مسلمان اکٹھے ہو کر کہہ رہے تھے کہ بائیکاٹ کرو، ہڑتالیں کرو، یہ کر و وہ کرو۔پاس سے یہ گزرے تو لوگوں نے کہا۔آئیے آئیے مولوی صاحب ! آپ نے نہیں تقریر کرنی۔انہوں نے کہا میں نے تو تمہارے خلاف تقریر کرنی ہے اگر تم نے وہ تقریر سُن لینی ہے تو چلو۔انہوں نے کہا۔ہمیں یہ بھی منظور ہے آپ خدا کے لئے ضرور تشریف لے چلیں۔وہاں کھڑے ہوئے تو انہوں نے کہا۔تم ہڑتال کا وعظ کر رہے ہو لیکن تم نے سال سال کا غلہ گھر میں رکھا ہوا ہے، ہڑتال کر کے تمہارا کیا نقصان ؟ روٹی تمہارے گھر میں موجود ہے، ایندھن تمہارے گھر میں موجود ہے بھینسیں تمہارے گھروں میں ہیں ، گھی تمہارے گھر میں موجود ہے، مصالحہ تمہارے گھروں میں ہے، دالیں تمہارے پاس موجود ہیں تین دن بھی ہڑتال ہوئی تو تمہیں پتہ نہیں لگے گا۔لیکن وہ بیوہ عورت جو چکی پیس کر شام کو کھانا کھاتی ہے اُس کا کیا بنے گا تمہاری اس ہڑتال سے وہ مرے گی تمہارا تو نقصان نہیں۔یہ کہہ کے بیٹھ گئے۔انہوں نے اس کو برداشت کر لیا اور کہا اچھی بات ہے ہم ہڑتال نہیں کریں گے۔جب رولٹ ایکٹ کے بعد ہر جگہ مجسٹریٹ مقرر کئے گئے اور مُجرم پکڑے گئے تو اُن کا نام بھی پولیس نے ڈائریوں میں بھیجا کہ انہوں نے تقریر کی تھی لیکن آگے لکھا کہ انہوں نے تقریر یہ کی کہ ہڑتال نہیں کرنی چاہئے اِس سے ملک کو نقصان پہنچے گا۔حافظ صاحب بھی مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوئے۔اُس نے کہا۔آپ نے تقریر کی۔وہ سمجھتے تھے کہ ہم تو حکومت کی تائید میں ہیں حافظ صاحب نے کہا۔میں نے تقریر کی تھی مگر۔۔۔۔اس نے کہا ہم مگر وگر نہیں جانتے چھ مہینے قید۔انہوں نے کہا۔میں کہنے لگا۔میں میں کوئی نہیں۔تم نے تقریر کی چھ مہینے قید۔مجھے پتہ لگا تو میں نے گورنر کے پاس اپنا آدمی بھجوایا اور میں نے کہا۔ایسے احمق تم لوگ ہو کہ وہ تو یہ تقریر کرتے ہیں کہ ہڑتال نہ کرو اور لوگوں کو سمجھاتا ہے اور تم اُس کو بجائے انعام دینے کے سزا دیتے ہو۔خیر یہ ایسی حیرت انگیز بات تھی کہ آدمی نے مجھے بتایا کہ چیف سیکرٹری نے اُسی وقت تار کے ذریعہ پولیس کی ڈائری منگوائی۔مسل میں دیکھا تو لکھا تھا کہ تقریر یہ کی کہ تم کیوں ہڑتالیں کرتے ہو اس سے بیوائیں اور غریب مارے جاتے ہیں۔اِس پر اُس نے تار کے ذریعہ احکام دیئے کہ مولوی صاحب کو چھوڑ دیا جائے اور سمتھ کو اُس نے ڈسمس کر دیا کہ تم انگلینڈ واپس چلے جاؤ۔تو یہ حال تھا کہ یہ پوچھنا بھی پسند نہ کیا تقریر کی کیا ؟ بس تقریر کرنا کافی ہے چھ مہینے قید۔لیکن