سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 591 of 900

سیر روحانی — Page 591

۵۹۱ میں اُن کا لیڈر ہوں اور میں انہیں کہتا رہتا ہوں کہ جرم نہ کرو، شرارتیں نہ کرو، فساد نہ کرو، اگر کسی نے ناجائز ہتھیار رکھا ہوا ہے تو کیا وہ مجھے بتا کر رکھے گا۔میں تو انہیں کہتا ہوں جرم نہ کرو پس وہ تو مجھ سے چھپائے گا اور جب اُس نے اپنا ہتھیار مجھ سے چھپایا ہوا ہے تو میں اُسے کیسے کہوں کہ ہتھیار نہ رکھے۔کہنے لگے آپ اعلان کر دیں کہ کوئی احمدی اپنے پاس ہتھیار نہ رکھے۔میں نے کہا اگر میں ایسا کہوں تو میری جماعت تو مجھے لیڈر اسی لئے مانتی ہے کہ میں معقول آدمی ہوں۔وہ مجھے کہیں گے صاحب ! ہم نے آپ کو معقول آدمی سمجھ کے اپنا لیڈر بنایا تھا یہ کیا بیوقوفی کر رہے ہیں کہ چاروں طرف سے ہندو اور سکھ حملہ کر رہے ہیں اور مار رہے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ تم اپنے پاس کوئی ہتھیار نہ رکھو آپ یہ بتائیں کہ ہم جان کیسے بچا ئیں گے؟ کہنے لگے۔کہیئے ہم بچائیں گے ، حکومت بچائے گی۔جب انہوں نے کہا حکومت بچائے گی تو میں نے کہا بہت اچھا۔میں اُسوقت اپنے ساتھ تمام علاقہ کا نقشہ لے کر گیا تھا۔میں نے کہا قادیان کے گر د ۸۰ گاؤں پر حملہ ہو چکا ہے جو ہندؤوں اور سکھوں نے جلا دیئے ہیں اور لوگ مار دیئے ہیں۔میں یہ نقشہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔جب میں اُن سے کہوں گا کہ دیکھو! اپنے پاس ہتھیار نہ رکھو کیونکہ حکومت تمہیں بچائے گی تو وہ کہیں گے کہ سب سے آخری گاؤں جو حد پر تھا جس پر حملہ ہوا تو کیا گورنمنٹ نے اُسے بچایا۔میں کہوں گا ارے گورنمنٹ خدا تھوڑی ہی ہے۔اُسے آخر آہستہ آہستہ پتہ لگتا ہے کچھ عقل کرو دو چار دن میں گورنمنٹ آ جائے گی۔پھر وہ اگلے گاؤں پر ہاتھ رکھیں گے تین دن ہوئے یہ گاؤں جلا تھا کیا گورنمنٹ نے مسلمانوں کو کوئی امداد دی؟ میں کہوں گا خیر کچھ دیر تو لگ جاتی ہے تو وہ اگلے گاؤں پر ہاتھ رکھیں گے اچھا ہم مان لیتے ہیں کہ کچھ دیر لگنا ضروری ہے مگر اس گاؤں پر حملہ کے وقت حکومت نے حفاظت کا انتظام کیوں نہ کیا۔میں نے کہا یہ ۸ گاؤں ہیں۔۸۰ گاؤں پر پہنچ کر وہ مجھے فاتر العقل سمجھنے لگ جائیں گے یا نہیں کہ جتنے گاؤں ہم پیش کر رہے ہیں اُن میں سے کسی پر بھی حملہ ہوا تو حکومت نہیں آئی۔شرمندہ ہو گئے اور کہنے لگے میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ امن قائم رکھوں گا۔میں نے کہا کتنی دیر میں ؟ کہنے لگے پندرہ دن میں۔پندرہ دن میں ریلیں بھی چلا دیں گے تاریں بھی گھل جائیں گی ، ڈاکخانے بھی گھل جائیں گے اور ٹیلیفون بھی جاری ہو جائے گا۔آپ چند دن صبر کریں۔میں نے کہا۔بہت اچھا ہم صبر کر لیتے ہیں لیکن جب پندرہ دن ختم ہوئے تو آخری حملہ قادیان پر ہوا۔جس میں سب لوگوں کو نکال دیا گیا۔پھر ان