سیر روحانی — Page 590
۵۹۰ کہا پھر تم نے اُس کو بچایا کیوں نہیں؟ اُس نے کہا میں آپ کو خبر دینے آیا ہوں میں نے کہا وہ تو اب تک اُسے مار چکے ہونگے جاؤ جلدی۔چنانچہ جب وہ واپس گیا تو اُس نے کہا کہ وہ سڑک پر مرا ہوا پڑا تھا مگر اُس طرف اِس سے کئی گنا زیادہ ظلم ہوا ہے۔ہم جس زمانہ میں اُدھر تھے اور یہ لڑائیاں ہو رہی تھیں تو ہمیں پتہ لگتا رہتا تھا کہ کس طرح سے مسلمان مارے جا رہے ہیں، لڑ کے مارے جاتے تھے ، عورتیں ماری جاتی تھیں اور قسم قسم کے مظالم کئے جاتے تھے۔چنانچہ جب پارٹیشن ہوئی تو میں جو پہلے اس طرف پنڈت نہرو سے ملاقات کا واقعہ آیا ہوں تو اسی غرض سے آیا تھا کہ پنڈت نہرو صاحب یہاں آئے ہوئے تھے۔میں نے سمجھا کہ اُس سے جا کر بات کروں کہ یہ کیا ظلم ہو رہا ہے۔سردار شوکت حیات صاحب کے ہاں وہ ٹھہرے تھے میں نے انہیں ملنے کے لئے لکھا تو انہوں نے وقت دے دیا۔میں نے اُن سے کہا ہم قادیان میں ہیں گاندھی جی اور قائد اعظم کے درمیان یہ سمجھوتا ہوا ہے کہ جو ہندو ادھر رہے گا وہ پاکستانی ہے اور جو مسلمان اُدھر رہ جائے وہ ہندوستانی ہے اور اپنی اپنی حکومت اپنے اپنے افراد کو بچائے اور وہ لوگ حکومت کے وفادار رہیں۔قائد اعظم اور گاندھی جی کے اس فیصلہ کے مطابق ہم چونکہ ہندوستان میں آ رہے ہیں اس لئے ہم آپ کے ساتھ وفاداری کرنے کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ آپ ہمیں ہندوستانی بنا ئیں اور رکھیں۔وہ کہنے لگے ہم تو رکھ رہے ہیں۔میں نے کہا کہ آپ کیا رکھ رہے ہیں فسادات رہے ہیں، لوگ ماررہے ہیں قادیان کے ارد گرد جمع ہورہے ہیں مسلمانوں کو مارا جا رہا ہے۔کہنے لگے آپ نہیں دیکھتے ادھر کیا ہو رہا ہے؟ میں نے کہا ادھر جو ہو رہا ہے وہ تو میں نہیں دیکھ رہا میں تو اُدھر سے آیا ہوں۔لیکن فرض کیجیئے ادھر جو کچھ ہو رہا ہے ویسا ہی ہو رہا ہے تب بھی میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ یہاں کا جو ہندو ہے وہ تو پاکستانی ہے اور اُس کی ہمدردی پاکستان گورنمنٹ کو کرنی چاہئے ہم ہیں ہندوستانی ، آپ کو ہماری ہمدردی کرنی چاہئے اِس کا کیا مطلب کہ یہاں کے ہندوؤں پر سختی ہو رہی ہے تو آپ وہاں کے مسلمانوں پر سختی کریں گے ؟؟ کہنے لگے آپ جانتے نہیں لوگوں میں کتنا جوش پھیلا ہوا ہے۔میں نے کہا آپ کا کام ہے کہ آپ اس جوش کو دبائیں۔بہر حال اگر آپ مسلمانوں کو رکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو اُنکی حفاظت کرنی پڑیگی۔وہ کہنے لگے ہم کیا کر سکتے ہیں۔لوگوں کو جوش اس لئے آتا ہے کہ آپ کے پاس ہتھیار ہیں آپ انہیں کہیں کہ جو ہتھیار نا جائز ہیں وہ چھوڑ دیں۔میں نے کہا آپ یہ تو فرمائیے