سیر روحانی — Page 589
۵۸۹ اُس سے لڑنے کی اجازت نہیں۔یہ مطلب نہیں کہ اگر وہ کا فر ہے اور اُس نے لڑائی نہیں کی تو اُس سے جا کر لڑ پڑو۔وَلَا تَغْلُوا اور قطعی طور پر مال غنیمت میں خیانت یا سرقہ سے کام نہ لو۔وَلَا تَغْدِرُوا اور بد عہدی نہ کرو، کسی کو دھو کا مت دو۔اوّل تو مال غنیمت میں کسی قسم کی ناجائز دست اندازی نہ کرو اور پھر جو سزا دو یا اُن سے وعدے کر و اُن کو کسی بہانے سے توڑنا نہیں۔انگریزی حکومت سب جگہ اسی طرح پھیلی ہے۔پہلے چھوٹا سا معاہدہ کر لینا کہ چھاؤنی رہے گی اور ایک افسر رہے گا۔پھر کہا کہ ہمارے فلاں سپاہی کو تمہارے آدمیوں نے چھیڑا ہے اس لئے ارد گرد بھی سات آٹھ گاؤں پر ہم اپنا قبضہ رکھیں گے تا تمہارے لوگ ہمارے آدمیوں کو کچھ کہیں نہیں۔پھر اس کے بعد یہ کہہ دیا کہ ہمارے آدمی جو ارد گر در کھے گئے تھے اُنکے ساتھ تمہارے آدمی لڑ پڑے ہیں اس لئے ہم مجبور ہیں کہ دارالخلافہ پر اپنا قبضہ رکھیں تا فساد نہ ہو۔پھر کہہ دیا تم نے فلاں حکم دیدیا ہے اس سے ملک میں بغاوت پیدا ہوتی ہے اور بغاوت کا ہم پر بھی بُرا اثر پڑتا ہے اس لئے آئندہ جو حکم دیا کریں ہم سے پوچھ کر دیا کریں۔وَلَا تَمْشِلُوا ٢٩ اور مُثلہ کے معنے ہوتے ہیں مرے ہوئے کے ناک کان کاٹ ڈالنا۔فرماتا ہے کفار اپنی رسم کے مطابق اگر مسلمان مقتولین کے ناک کان بھی کاٹ دیں تو تم اُنکے مُردوں کے ساتھ یہ سلوک نہ کیا کرو۔وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيْداً۔۵۰ اور کسی نا بالغ بچے کو مت مارا کرو۔یعنی صرف جنگی اور سیاسی سپاہی کو مارو جولڑنے کے قابل نہیں ابھی نابالغ ہے اُسے نہیں مارنا کیونکہ وہ پالبداہت جنگ میں شامل نہیں ہوا اور اسلامی تعلیم کے مطابق صرف اُسی کے ساتھ لڑائی کی جاسکتی ہے جو لڑائی میں شامل ہوا ہو۔اب اس کے مقابل پر جو کچھ پارٹیشن میں ہوا وہ کیا ہوا کس طرح سینکڑوں بلکہ ہزاروں بچہ مارا گیا۔یہ ایک انتہاء درجہ کا ظلم تھا جو کیا گیا۔اس طرف کم اور اُدھر زیادہ مگر ہؤا دونوں طرف۔مجھے یاد ہے لاہور میں ایک رات کو آواز میں آئیں میں نے اپنے دفتر کا ایک آدمی بُلوایا اور کہا جاؤ پتہ کر و معلوم ہوتا ہے کسی پر ظلم ہو رہا ہے۔وہ دوڑ کر گیا اور تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا کہنے لگا ایک ہندو تھا جسے مسلمانوں نے گھیر لیا تھا اور اُس کو مارنے لگے تھے۔میں نے