سیر روحانی — Page 576
۵۷۶ ہے، اگر ہمارے صلوٰۃ میں نام لیتا ہے تو ٹھیک ہے ، اگر ہمارے مندر میں نام لیتا ہے تو ٹھیک ہے ور نہ ہم نہیں لینے دیں گے۔آج مسلمان بھی یہی کہتا ہے چنانچہ دیکھ لو کیا ان میں سے کوئی بات بھی ہے جو مسلمان نہیں کر رہا؟ کیا آج کا مسلمان یہ نہیں کہہ رہا کہ یا تو ہماری طرح کی نماز پڑھو ور نہ ہم نہیں پڑھنے دیں گے، یا تو ہماری طرح فتوے دو ورنہ تمہیں فتویٰ نہیں دینے دیں گے ، یا تو ہماری طرح کام کرو ورنہ ہم تمہیں سزا دیں گے۔کیا آج ہماری فقہ میں نہیں لکھا ہوا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کو نئے معبد بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی یا گرجے بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن یہ کہتا ہے کہ ہم اس لئے لڑتے ہیں تا کہ اگر جوں کو بچائیں۔قرآن کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ کولڑنے کی اجازت اس لئے دی گئی ہے کہ یہودیوں کے عبادت خانوں کو گر نے سے بچایا جائے ، قرآن کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لڑنے کی اس لئے اجازت دی گئی ہے کہ مانک (MONK) یا راہب وغیرہ جو بیٹھے عبادت کر رہے ہیں اُن کو نقصان نہ پہنچے لیکن اب ہر ایک بات کے خلاف کرنے کے لئے مسلمان یہ کہتا ہے کہ دوسروں کے معبد تو ڑنے جائز ہیں ، لوگوں سے لڑائی بھی جائز ہے، لوگوں کے مذاہب میں دخل دینا بھی جائز ہے، لوگوں سے جبراً اپنی مرضی منوانا بھی جائز ہے لیکن قرآن کہتا ہے کہ تمہیں اس طرح فتح نصیب نہیں ہو گی۔تمہیں فتح تب نصیب ہو گی جبکہ تم لوگوں کو آزادی دو گے، جبکہ تم لوگوں کو خریت ضمیر دو گے، جبکہ تم لوگوں کے مذہب میں دخل نہیں دو گے اور کہو گے کہ بیشک یہ مذہب رکھو یہ خدا کا معاملہ ہے۔اب یہ سیدھی بات ہے کہ دنیا کی رائے ہی آخر جیت کا موجب بنتی ہے۔ہٹلر نے لڑائی کی اور بڑی منظم لڑائی لڑا مگر آخر وہ ہارا اسلئے کہ دنیا کی جو آزاد رائے تھی وہ ساری کی ساری امریکہ اور انگلستان کے ساتھ تھی۔روس اور جاپان لڑے، روس کتنی بڑی طاقت ہے مگر وہ ہارا اس لئے کہ دنیا کی ساری کی ساری آزاد رائے جاپان کی ہمدردتھی اس ہمدردی کی وجہ سے جہاں بھی کسی کا بس چلتا تھا وہ جاپان کی تائید میں تھوڑا بہت کام کرتا تھا نتیجہ یہ ہوا کہ روس ہار گیا۔تو جب کوئی قوم ایسا طریق اختیار کرتی ہے کہ ہر مذہب وملت کے لئے وہ انصاف کرنے کے لئے تیار ہوتی ہے تو خود دوسروں کے گھروں میں اُن کے جاسوس پیدا ہو جاتے ہیں اور ہر جگہ اُسے مددملنی شروع ہو جاتی ہے اور وہ جیتنے شروع ہو جاتے ہیں یہ جب میر و مسلم پر مسلمان گئے یروشلم کے عیسائیوں پر اسلامی حکومت کا غیر معمولی اثر و مہیا کی نظر حملہ آور 14 تو عیسائی لشکر ہوا