سیر روحانی — Page 555
۵۵۵ ہماری کوئی بات پہنچے۔" چنانچہ آپ نکلے۔مدینہ میں سینکڑوں منافق موجود تھا لیکن دس ہزار کا لشکر مدینہ سے نکلتا ہے اور کوئی اطلاع مکہ میں نہیں پہنچتی۔صرف ایک کمزور صحابی ایک صحابی کا کفارِ مکہ کی طرف خط اور اُس کا پکڑا جانا نے مکہ والوں کو خط لکھ دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار کا لشکر لے کر نکلے ہیں۔مجھے معلوم نہیں آپ کہاں جا رہے ہیں لیکن میں قیاس کرتا ہوں کہ غالبا وہ مکہ کی طرف آ رہے ہیں۔میرے مکہ میں بعض عزیز اور رشتہ دار ہیں میں امید کرتا ہوں کہ تم اس مشکل گھڑی میں اُن کی مدد کرو گے اور انہیں کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچنے دو گے۔یہ خط ابھی ملکہ نہیں پہنچا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے وقت حضرت علی کو بلایا اور فرمایا تم فلاں جگہ جاؤ۔اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ وہاں ایک عورت اونٹنی پر سوار تم کو ملے گی اُس کے پاس ایک خط ہو گا جو وہ مکہ والوں کی طرف لے جا رہی ہے تم وہ خط اُس عورت سے لے لینا اور فوراً میرے پاس آجانا۔جب وہ جانے لگے تو آپ نے فرمایا۔دیکھنا وہ عورت ہے اُس پر سختی نہ کرنا، اصرار کرنا اور زور دینا کہ تمہارے پاس خط ہے لیکن اگر پھر بھی وہ نہ مانے اور منتیں سما جتیں بھی کام نہ آئیں تو پھر تم سختی بھی کر سکتے ہو اور اگر اُسے قتل کرنا پڑے تو قتل بھی کر سکتے ہو لیکن خط نہیں جانے دینا۔حضرت علی وہاں پہنچ گئے۔عورت موجود تھی وہ رونے لگ گئی اور قسمیں کھانے لگ گئی کہ کیا میں غذار ہوں ، دھو کے باز ہوں ، آخر کیا ہے تم تلاشی لے لو چنا نچہ انہوں نے اِدھر اُدھر دیکھا اُس کی جیبیں ٹولیں ، سامان دیکھا مگر خط نہ ملا۔صحابہ کہنے لگے معلوم ہوتا ہے خط اس کے پاس نہیں۔حضرت علیؓ کو جوش آ گیا آپ نے کہا تم چُپ رہو اور بڑے جوش سے کہا کہ خدا کی قسم ! رسول کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا۔چنانچہ انہوں نے اُس عورت سے کہا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے کہ تیرے پاس خط ہے اور خدا کی قسم ! میں جھوٹ نہیں بول رہا۔پھر آپ نے تلوار نکالی اور کہا۔یا تو سیدھی طرح خط نکال کر دیدے ورنہ یا درکھ اگر تجھے نگا کر کے بھی تلاشی لینی پڑی تو میں تجھے نگا کرونگا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ بولا ہے اور تُو جھوٹ بول رہی ہے۔چنانچہ وہ ڈر گئی اور جب اُسے ننگا کرنے کی دھمکی دی گئی تو اُس نے جھٹ اپنی مینڈھیاں کھولیں اُن مینڈھیوں میں اُس نے خط رکھا ہوا تھا جو اُس نے نکال کر دے دیا۔یہ ایک صحابی حاطب کا خط تھا اور اُس میں لکھا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم