سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 553 of 900

سیر روحانی — Page 553

۵۵۳ نے کوئی غداری نہیں کی۔وہ اُس کے متعلق سمجھتے تھے کہ اب یہ جھوٹ نہیں بول سکتا اور وہ اس کو بڑا عذاب سمجھتے تھے۔اسی دستور کے مطابق اس نے بھی خانہ کعبہ کے آگے قربانی کی اُس کا خون لے کر اپنے ماتھے کو ملا اور پھر قوم کے آگے جا کر کہا کہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ مجھ سے جو کچھ ہو سکا کیا ہے۔میں نے اُن کے ساتھ اور کوئی معاہدہ نہیں کیا۔تے چنانچہ اِسپر لوگوں کو تسلی ہو گئی۔مگر اب اُن میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں کہ اگر مسلمانوں کی طرف سے حملہ ہو جائے تو کیا بنے گا ؟ رؤسائے مکہ میں گھبراہٹ کچھ دنوں تک مدینہ سے خبریں نہ پہنچیں۔جب کوئی خبر نہ پہنچی تو اُن کی گھبراہٹ اور بھی زیادہ بڑھتی چلی گئی کہ اگر خزاعہ والے وہاں گئے ہیں تو محمد رسول اللہ نے کچھ نہ کچھ تو ضرور کہا ہوگا۔یا تو یہ کہا ہوگا کہ ہم نہیں کر سکتے یا یہ کہا ہو گا ہم کرتے ہیں۔کچھ تو پتہ لگتا یہ خاموشی کیسی ہے ؟ تین چار روز کے بعد انہوں نے ابوسفیان سے کہا کہ تم روز جایا کرو اور جا کے چکر لگا کر دیکھا کرو کہ مسلمانوں کا کوئی لشکر تو نہیں آ رہا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح مکہ کیلئے تیاری بہر حال ادھر ابو سفیان مکہ کی طرف روانہ ہوا اُدھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی سے کہا کہ میرا سامانِ سفر باندھنا شروع کرو۔انہوں نے رختِ سفر باندھنا شروع کیا اور حضرت عائشہ سے کہا۔میرے لئے ستو وغیرہ یا دانے وغیرہ بُھون کر تیار کرو۔اسی قسم کی غذا ئیں اُن دنوں میں ہوتی تھیں۔چنانچہ انہوں نے مٹی وغیرہ پھٹک کے دانوں سے نکالنی شروع کی۔حضرت ابو بکر گھر میں بیٹی کے پاس آئے اور انہوں نے یہ تیاری دیکھی تو پوچھا عائشہ ! یہ کیا ہو رہا ہے؟ کیا رسول اللہ کے کسی سفر کی تیاری ہے؟ کہنے لگیں سفر کی تیاری ہی معلوم ہوتی ہے آپ نے سفر کی تیاری کیلئے کہا ہے۔کہنے لگے کوئی لڑائی کا ارادہ ہے۔انہوں نے کہا۔کچھ پتہ نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میرا سامانِ سفر تیار کرو اور ہم ایسا کر رہے ہیں۔دو تین دن کے بعد آپ نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمرہ کو بلایا اور کہا دیکھو! تمہیں پتہ ہے خزاعہ کے آدمی اس طرح آئے تھے اور پھر بتایا کہ یہ واقعہ ہوا ہے اور مجھے خدا نے اس واقعہ کی پہلے سے خبر دے دی تھی کہ انہوں نے غداری کی ہے اور ہم نے اُن سے معاہدہ کیا ہوا ہے اب یہ ایمان کے خلاف ہے کہ ہم ڈر جائیں اور مکہ والوں کی