سیر روحانی — Page 552
۵۵۲ رسول ہے۔غرض وہ مایوس ہو کر وہاں سے آیا۔جب مسجد میں بھی اُس کو ذلت پہنچی تو وہ قافلہ کو لے کے ابوسفیان کی ناکام واپسی واپس چلا آیا۔اُس کو راستہ میں خزاعہ کے بھی دو تین آدمی جاتے ہوئے مل گئے تھے۔اُس نے سمجھا ادھر سے آئے ہیں تو ضرور یہ رسول اللہ سے مل کے آئے ہیں۔کہنے لگا سُنا ؤ مدینہ کا کیا حال ہے؟ یہ نہ پوچھا کہ تم خبر دینے گئے تھے بلکہ پوچھا سناؤ مدینہ کا کیا حال ہے؟ وہ مسلمان تو تھے ہی نہیں نہ انکو دین اسلام سے کوئی واقفیت تھی اُنکو جھوٹ بولنے سے کیا پر ہیز تھا۔کہنے لگے مدینہ کیسا۔ہم کیا جانتے ہیں مدینہ کو۔ہماری تو قوم کے بعض آدمیوں میں یہاں لڑائی ہو گئی تھی ہم صلح کرانے آئے تھے۔لیکن ابوسفیان بڑا ہوشیار تھا۔اُس نے سمجھا کہ یہ میرے ساتھ چالا کی کر رہے ہیں اپنے ساتھیوں کو کہنے لگا جس وقت یہ آگے جائیں ذرا اونٹوں کی لید دیکھو۔مدینہ میں اونٹوں کو کھجور کی گٹھلیاں کھلا یا کرتے ہیں اگر لید میں گٹھلیاں نکلیں تو جھوٹ بول رہے ہیں یہ مدینہ سے آئے ہیں۔اگر لید سے گٹھلیاں نہ نکلیں تو یہ کہیں اور سے آرہے ہیں۔جب وہ قافلہ گیا اور انہوں نے لید دیکھی تو گٹھلیاں نکلیں۔کہنے لگے یہ وہاں ہو آئے ہیں۔خیراب یہ وہاں سے واپس مکہ پہنچے۔مکہ پہنچنے پر سارے مکہ والے آئے اور پوچھا۔سُناؤ کچھ کر آئے ہو؟ کہنے لگا صرف اتنا کیا ہے کہ میں نے مسجد میں کھڑے ہوکر اعلان کر دیا تھا کہ میرے بغیر معاہدہ نہیں ہو سکتا۔اب میں نیا معاہدہ کرتا ہوں اور اس کی تصدیق کرتا ہوں اور اس کی مدت بھی بڑھا تا ہوں۔کہنے لگے تم ہمارے سردار ہو پھر تم نے ایسی احمقانہ بات کیوں کی؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ نہ مانیں اور تم اعلان کر دو۔پھر معاہدہ کیسے ہوا! کہنے لگا۔کہتے تو وہ بھی یہی تھے۔کہنے لگے پھر تم نے کیا کیا ؟ کہنے لگا پھر اور میں کیا کرتا۔تم ہی کوئی ترکیب بتاؤ۔میں نے رسول اللہ کو بار بار کہا، صحابہ کے آگے ناک رگڑے کسی نے میری نہیں سنی پھر میں اور کیا کر سکتا تھا۔کہنے لگے بھلا اس کا کوئی فائدہ بھی تھا ذلیل ہونے کی کیا ضرورت تھی۔اُس نے کہا۔میں تو بس یہی کر کے آیا ہوں۔خیر ساری طرف سے اُس کی ملامت شروع ہوئی۔19 لوگوں نے اُس کے متعلق کہا مکہ والوں کی طرف سے ابوسفیان پر غداری کا الزام کہ یہ مسلمانوں سے مل گیا ہے۔عربوں میں یہ دستور تھا کہ جب کسی پر ایسا الزام لگے تو جا کر خانہ کعبہ کے سامنے قربانی کرتا تھا اور اُس قربانی کا خون اپنے ماتھے پر ملتا تھا اور پھر قوم کے آگے اعلان کرتا تھا کہ میں