سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 900

سیر روحانی — Page 527

۵۲۷ ابھی تک جاری ہے اور جس کا ایک حصہ میں آج بیان کرنے والا ہوں۔نوبت خانوں کی پہلی غرض جو چیزیں میں نے وہاں دیکھی تھیں اور جنہوں نے میرے قلب پر خاص اثر کیا تھا اُن میں سے ایک چیز یہ تھی کہ میں نے وہاں نوبت خانے دیکھے۔یعنی ایسی عمارتیں دیکھیں جن میں وہ جگہیں بنی ہوئی تھیں جن میں بڑی بڑی نوبتیں رکھی جاتی تھیں اور وہ خاص خاص مواقع پر بجائی جاتی تھیں۔میں نے تحقیقات کی کہ یہ نوبت خانے کیوں بنوائے گئے تھے اور ان کی کیا غرض تھی ؟ اس پر مجھے معلوم ہوا کہ کچھ نو بتیں تو اس طرح رکھی گئی تھیں کہ وہ سرحدوں سے چلتی تھیں اور دتی تک آتی تھیں۔مثلاً جنوبی ہندوستان میں چند حکومتیں ایسی تھیں جو شروع زمانہ میں مغلوں کے ماتحت نہیں کی آئیں وہ ہمیشہ مغل بادشاہوں سے لڑتی رہتی تھیں اور جب بھی موقع پاتیں مغلیہ چھاؤنیوں پر حملہ کر دیتی تھیں۔اس غرض کے لئے انہوں نے تین تین چار چار میل پر جہاں سے وہ سمجھتے تھے کہ اُن کی آواز جا سکتی ہے نوبت خانے بنائے ہوئے تھے جو چلتے ہوئے دلی تک آتے تھے۔جس وقت سرحدات پر حملہ ہوتا تھا تو نوبت خانہ پر جو افسر مقرر ہوتے تھے وہ زور سے نوبت بجاتے تھے اُن کی آواز سُن کر اگلا نوبت خانہ نوبت بجانا شروع کر دیتا تھا، اُس کی آواز تیسرے نوبت خانہ تک پہنچتی تو وہ نوبت بجانا شروع کر دیتا اس طرح دکن سے دتی تک چند گھنٹوں میں خبر پہنچ جاتی تھی۔گویا یہ ایک تار کا طریق نکالا گیا تھا اور اس سے معلوم ہو جاتا تھا کہ ملک پر حملہ ہو گیا ہے تو جس جہت سے نوبت خانوں کی آواز آتی تھی اُس جہت کا بھی پتہ لگ جاتا تھا۔بادشاہ فور الام بندی کے کا حکم دے دیتا تھا اور کسی جرنیل کو مقابلہ کے لئے مقرر کر دیتا تھا اور گھوڑ سوار فورا چلے جاتے تھے جو جا کر خبر دیتے تھے کہ تم مقابلہ کرو۔اگر بھاگنا پڑے تو فلاں جگہ تک آجاؤ پھر ہماری اور فوج آجائے گی۔چنانچہ پھر فوج پہنچ جاتی تھی اور دشمن کا مقابلہ شروع ہو جا تا تھا۔یہ نوبت خانے ادھر بنگال سے چلتے تھے اور دتی تک جاتے تھے اور اُدھر پشاور سے چلتے تھے اور دتی تک آتے تھے۔جب کوئی حملہ آور ایران کی طرف سے آتا تھا تو پشاور کے پاس سے نوبت خانے بجنے شروع ہو جاتے تھے اور چند گھنٹوں میں دتی میں خبر پہنچ جاتی تھی کہ ا دھر سے حملہ ہو گیا ہے۔اُن دنوں ملتان میں بڑی چھاؤنی تھی ، پھر لاہور میں بڑی چھاؤنی تھی اور دتی تو خود مرکز حکومت تھا۔ان بڑی بڑی فوجی چھاؤنیوں کو حکم پہنچ جاتا تھا کہ اپنی فوجیں پشاور کی طرف بڑھانی شروع کر دو اور پھر دتی سے دوسرے جرنیل بھی پہنچ جاتے تھے۔