سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 509 of 900

سیر روحانی — Page 509

۵۰۹ زندہ شخص پیش کرو جس پر خدا تعالیٰ کا تازہ کلام اُترتا ہو۔مگر واقعات بتا رہے ہیں کہ اس چیلنج کے مقابلہ میں دنیا کی ساری قو میں ابتر ہو کر رہ گئیں اور وہ اسلام کے پہلوان کے مقابلہ میں اپنا کوئی پہلوان پیش نہ کر سکیں۔ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے مگر نہ ہندو کوئی روحانی بیٹا پیش کر سکے ہیں نہ عیسائی کوئی روحانی بیٹا پیش کر سکے ہیں نہ یہودی کوئی روحانی بیٹا پیش کر سکے ہیں ، نہ بدھ یا کنفیوشس مذہب کے پیرو کوئی روحانی بیٹا پیش کر سکے ہیں ، نہ یورپ کا فلسفہ کوئی بیٹا پیش کر سکا ہے۔ساٹھ سال سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی بیٹے کا چیلنج موجود ہے کہ اگر تمہارے اندر کوئی نور اور صداقت ہے تو تم میرے مقابلہ میں وہ شخص پیش کر و جس نے تمہارے مذہب پر چل کر خدا تعالیٰ کے مکالمات کا شرف حاصل کیا ہو اور اس کی تازہ وحی اور نشانات کا مورد ہوا ہو مگر کوئی مذہب اپنا روحانی بیٹا پیش نہیں کر سکا۔پس جس طرح آج سے تیرہ سو سال پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس انعام کو پورا کیا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر قسم کی نعماء سے حصہ عطا فر مایا اسی طرح اُس نے تیرہ سو سال کے بعد ایک بار پھر دنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی صاحب اولاد ہیں اور آپ کے دشمن ہی ابتر ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام محمود کی بشارت پھر اسی در بار خاص میں ایک اور عظیم الشان انعام بھی اس خدائی گورنر جنرل کو عطا کیا گیا اور کہا گیا کہ عَسَى أَنْ يُبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا ۱۲۸ یعنی اے محمد رسول اللہ ! عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ ہر دوست اور دشمن تیری تعریف میں رطب اللسان ہوگا اور ہر مقام پر تیرے بلند اخلاق اور اعلیٰ درجہ کے کردار کا چرچا ہو گا۔اس انعام کا اعلان بھی ایسی حالت میں کیا گیا جب دنیا اپنی نابینائی کی وجہ سے اس خدائی گورنر جنرل کا حسن دیکھنے سے عاری تھی اور وہ اپنی مخالفت کے جوش میں اسے محمد کہنے کی بجائے مذقم کہہ کر پکارا کرتی تھی مگر ابھی ایسی مخالفت پر کچھ زیادہ عرصہ گزرنے نہیں پایا تھا کہ اُس کا روحانی حسن ظاہر ہونا شروع ہوا اور لوگوں کو محسوس ہوا کہ انہوں نے سونے کو پیتل اور ہیرے کو کوئلہ قرار دیکر ہمالیہ سے بھی بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔ہر وصف میں یکتا اور بے نظیر نبی انہوں نے تعصب کی پٹی اپنی آنکھوں سے اُتار کر اس کے اخلاق فاضلہ کو دیکھا تو انہیں بے مثال پایا