سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 502 of 900

سیر روحانی — Page 502

۵۰۲ بغیر اس کا مفہوم پوری طرح واضح نہیں ہوتا۔پس يَتْلُوا عَلَيْهِمُ التِہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی نوع انسان کی ایسے امور کی طرف راہنمائی کرتے ہیں جن کو وہ خود اپنی عقل کے زور سے معلوم کرنے سے قاصر تھے اور چونکہ امور غیبیہ ہی ایک ایسی چیز ہیں جن کو کوئی انسان اپنی عقل اور فکر کے ساتھ معلوم نہیں کر سکتا اس لئے تلاوت آیات کا کام اسی صورت میں مکمل ہوسکتا تھا جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کو ایسی باتیں بتاتے جو اُن کے لئے امور غیبیہ پر ایمان لانے کی محرک ہوتیں اور انہیں آپ کی راہنمائی میں وہ روحانی دولت ملتی جو اس سے پہلے ان کے پاس نہیں تھی۔ہستی باری تعالیٰ اس نقطۂ نگاہ سے اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ امور غیبیہ میں سب سے پہلی اور اہم خبر خدا تعالیٰ کا وجود ہے کیونکہ وہ وراء الورای ہستی ہے اور کوئی انسان اپنے علم اور ادراک کے زور سے اُس تک نہیں پہنچ سکتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کے وجود کو بنی نوع انسان کے سامنے اس طرح پیش کیا کہ اس وراء الوری ہستی کی عظمت اور اس کی جبروت کا تصور بھی قائم رہا اور بنی نوع انسان کے قلوب میں یہ یقین بھی پیدا ہو گیا کہ ہمارا خدا اپنی مخلوق کو اعلیٰ درجہ کے مقامات پر پہنچانے کی خواہش رکھتا ہے اور وہ انہیں ہر وقت اپنے قرب میں جگہ دینے کے لئے تیار ہے۔اس غرض کے لئے سب سے پہلی اور اہم خبر صفات الہیہ ہیں کیونکہ غیر محدود ہونے کی وجہ سے وہ صرف اپنی صفات کے ذریعہ ہی پہچانا جا سکتا ہے، بیشک صفات الہیہ پر اور مذاہب نے بھی روشنی ڈالی ہے مگر اوّل تو جس تفصیل کے ساتھ اسلام نے ان صفات کو بیان کیا ہے اس تفصیل کے ساتھ دنیا کے اور کسی مذہب نے صفات الہیہ پر روشنی نہیں ڈالی یہاں تک کہ یہودیت بھی جو اسلام سے پہلے آنے والے مذاہب میں سے ایک بہت بڑا مذہب تھا اور جسے تو رات جیسی کتاب دی گئی تھی اُس میں بھی بہت کم صفات الہیہ کا بیان ہوا ہے۔بائبل میں خدا تعالیٰ کی صفات کی تنقیص اور پھر ان مذاہب نے خدا تعالیٰ کی طرف کئی ایسے نقائص اور عیوب بھی منسوب کر رکھے ہیں جن کی وجہ سے اُس کی صفات کی تنقیص ہوتی ہے مثلاً بائبل میں ہی لکھا ہے چھ دن میں خداوند نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور ساتویں