سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 900

سیر روحانی — Page 486

۴۸۶ گر دو پیش کے اثرات کو قبول کرنے کے لئے بڑی شدت سے مائل رہتا ہے اور دوسری طرف اس میں یہ بھی طاقت ہے کہ اگر چاہے تو وہ ایسے اثرات کو قبول کرنے سے انکا ر کر دے۔گویا ایک طرف تو وہ ایک مضبوط چٹان ہے کہ جس سے سمندر کی تیز لہریں ٹکرا کر واپس لوٹ جاتی ہیں اور اُس پر ذرا بھی نشان پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوتیں اور دوسری طرف وہ ایک اسفنجی کے ٹکڑے کی طرح یا نرم موم کی طرح ہے کہ اُس پر ہاتھ ڈالتے ہی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس و میں طاقت مقابلہ ہے ہی نہیں اور یہی دونوں چیزیں انسان کے تمام اعمال کی جڑ ہیں یعنی کسی جگہ پر اثر قبول کرنا اور کسی جگہ پر اُس کو رڈ کر دینا۔اچھے اثرات کو قبول کرنے اور بُرے اثرات کو رڈ کرنے کی خوبی اس جگہ محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اتباع کے متعلق یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ اور رُحَمَاءُ بَيْنَهُمُ ہیں یعنی یہ نہیں کہ وہ ہر اثر کو قبول کرنے والے ہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو کی وہ شیطان کا اثر بھی قبول کر لیتے اور یہ بھی نہیں کہ کسی کا اثر قبول نہ کریں کیونکہ اس صورت میں وہ فرشتوں کے اثر کو بھی رڈ کر دیتے بلکہ اُن کے اندر یہ دونوں باتیں پائی جاتی ہیں۔ان میں یہ بھی طاقت ہے کہ خواہ کتنے ہی تکلیف دہ نتائج ہوں پھر بھی وہ کسی غلط اثر کو قبول نہیں کرتے اور یہ بھی طاقت ہے کہ خواہ حالات کتنے مخالف ہوں وہ اچھی چیز کے اثر کو رڈ نہیں کرتے۔جب کسی ایسی چیز کا سوال ہو جو مذہب اور دین کے خلاف ہو تو وہ ایک ایسے پہاڑ کی مانند بن جاتے ہیں جس پر کوئی چیز اثر نہیں کر سکتی لیکن جہاں تقویٰ اور باہمی اخوت اور برادرانہ تعلقات کا سوال ہو وہاں ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ تصویر لینے کا ایک شیشہ ہیں اور فوراً اس کے عکس کو قبول کر لیتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کا نمونہ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی زندگی میں یہ دونوں باتیں نہایت نمایاں طور پر پائی جاتی تھیں یعنی ایک طرف تو غیرت میں اس قدر بڑھے ہوئے تھے کہ دین کے خلاف کوئی بات سننا تک برداشت نہیں کر سکتے تھے اور دوسری طرف وہ محبت میں اتنے بڑھے ہوئے تھے کہ اپنے بھائیوں کا کوئی ا قصور انہیں نظر ہی نہیں آتا تھا۔چنانچہ دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں دشمنوں