سیر روحانی — Page 481
۴۸۱ توفیق ہی نہیں ملتی۔کھانا ملتا ہے تو معدہ خراب ہو جاتا ہے، کپڑا ملتا ہے تو جسم پر خارش یا کوڑھ ہو جاتا ہے اور انسان نہ اس کھانے سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے نہ کپڑے سے۔کبھی انعام لینے والے خود حکومت کے دشمن ہو جاتے ہیں جیسے بعض انگریز کے خوشامدی اور اس سے انعام و اکرام لینے والے آج ہم سے اس لئے نا خوش ہیں کہ یہ انگریز کی اطاعت کرتے تھے اُس وقت ان کی تعریف سے ان کے لب خشک ہوتے تھے اور بڑی بڑی کوششوں اور التجاؤں کے بعد انعام لیتے تھے اور اب ہم پر جنھوں نے کبھی کچھ نہیں لیا آنکھیں نکالتے ہیں کہ تم نے اُن کے اچھے کاموں کی تعریف کیوں کی۔غرض دنیوی درباروں کا نہ خطاب حقیقت کے مطابق ہوتا ہے نہ انعام مستقل اور پائدار ہوتا ہے اور نہ انعام لینے والے حکومت کے سچے وفادار ہوتے ہیں۔مگر میں نے دیکھا کہ صحابہ کرام کو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوَاعَتُهُ كا خطاب اس بار ا خطاب بالكل کا کا سچا اور انعام ہمیشہ کے لئے رہنے والا ہے چنانچہ دیکھ لو صحابہ کو اللہ تعالیٰ خطاب دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ وَالسَّبِقُونَ الاَوَّلُونَ من الْمُهَجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمُ بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ۵۴ یعنی مہا جرین اور انصار میں سے وہ لوگ جو سابق بالایمان ہیں اور اسی طرح وہ لوگ جنھوں نے نیکی اور تقویٰ میں ان کے نمونہ کی اتباع کی اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اُس سے راضی ہو گئے یہ وہ عظیم الشان خطاب ہے جو صحابہ کرام کو ملا اور عَلَى رَؤُوسِ الْاَشْهَادِ اس کا اعلان کیا گیا۔دنیا میں ہزاروں انقلابات آئے ، حکومتیں بدلیں ، حوادث رونما ہوئے مگر اس الہی دربار سے رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ کا جو خطاب صحابہ کرام کو ملا تھا وہ بدل نہ سکا آج بھی جب صحابہ کا کوئی ذکر کرتا ہے تو ایک مخلص کا دل محبت اور پیار کے جذبات سے لبریز ہو جاتا ہے اور وہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُم وَرَضُوا عَنه کے بغیر نہیں رہتا اور قیامت تک ایسا ہی ہوتا چلا جائے گا۔یہ کوئی معمولی بات نہیں دنیا میں لوگ نہایت چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں اور پھر اُن قربانیوں کے بعد جو بدلہ انہیں ملتا ہے وہ نہایت ہی ذلیل اور ادنیٰ قسم کا ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کے انعامات اتنے اہم ہوتے ہیں اور اُن کا دائرہ اتنا وسیع ہوتا ہے کہ اُن کے مقابلہ میں دنیا کی بادشاہتیں بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتیں مثلاً یہی بات دیکھ لو تیرہ سو سال ย رض