سیر روحانی — Page 479
۴۷۹ مشہور ہو چکی ہے مگر میری عیادت کو بہت کم لوگ آئے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے کہا بات دراصل یہ ہے کہ آپ بڑے مخیر آدمی ہیں آپ نے سینکڑوں لوگوں کو قرض دیا ہؤا ہے اب وہ آپ کے پاس آتے ہوئے شرماتے ہیں کہ مبادا آپ روپیہ کا تقاضا نہ کر دیں۔آپ نے فرمایا! اوہو میرے دوستوں کو بڑی تکلیف ہوئی جاؤ اور سارے شہر میں منادی کردو کہ ہر شخص جس کے ذمہ قیس کا کوئی قرض ہے وہ اُسے معاف کر دیا گیا ہے۔کہتے ہیں کہ اس اعلان پر اس قدر لوگ ان کی عیادت کے لئے آئے کہ ان کی سیڑھیاں ٹوٹ گئیں۔یہ وہ بَرَدَة تھے جو محمد رسول اللہ علیہ وسلم کے فیض صحبت سے تیار ہوئے جنہوں نے اپنی جانوں اور اپنے اموال کو ایک حقیر چیز کی طرح محض اس لئے لٹا دیا کہ بنی نوع انسان کو ترقی حاصل ہو۔تمام مشکلات کو دور کرنے کا وعدہ پھر دنیا میں حکومتوں پر جب مشکلات کے اوقات آتے ہیں تو بادشاہ اُن کا حوالہ دیکر کہتے ہیں کہ ہم امید کرتے ہیں کہ تم ثابت قدم رہو گے اور ہماری حکومت کے ہوا خواہ ثابت ہو گے اور ہمارے درجہ کی بلندی کا موجب ثابت ہو گے مگر اس دربار میں میں نے یہ عجیب بات دیکھی کہ تمام مشکلات کے حل کرنے کا بادشاہ خود وعدہ کرتا ہے۔ترک وطن کے صدمہ پر مکہ میں واپسی کی بشارت مثلا سب سے بڑا صدمہ اس روحانی گورنر جنرل کو اپنے آبائی وطن کے چھوڑنے کا پیش آنے والا تھا سو اس کی اُس نے پہلے خبر دے دی کہ عارضی طور پر ہماری مصلحت کے ماتحت تمہارے دشمن تم پر غالب آئیں گے اور تم کو اپنا وطن چھوڑنا پڑیگا لیکن ہم تجھے پھر اپنے وطن میں واپس لائیں گے چنانچہ فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ ۸۲ ہم جس نے تجھ پر قرآن کی حکومت قائم کی ہے اپنی ذات کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ جب دشمن تجھے تیرے وطن سے نکال دیگا جس کی طرف دنیا حج اور عمرہ کے لئے بار بار آتی ہے تو ہم پھر تجھے واپس تیرے وطن میں لے آئیں گے۔غور کرو اور دیکھو کہ کتنی بڑی تشفی ہے۔اول مصیبت کے آنے کی خبر دی، ا دوم اس مصیبت کے وقت میں پیشگوئی پورا ہونے کی خوشی پہنچائی،