سیر روحانی — Page 478
۴۷۸ اور ایک پائی بھی اپنے پاس نہ رکھی۔اس پر ایک سہیلی نے کہا آپ روزہ سے تھیں افطاری کے لئے چار آنے تو رکھ لیتیں آپ نے فرمایا تم نے پہلے کیوں نہ یاد دلایا۔کے حضرت عائشہ کی اپنے بھانجے سے ناراضگی ان کی عادت کو دیکھ کر ایک دفعہ ان کے بھانجے نے جس نے اُن کے مال کا وارث ہو نا تھا کہیں کہہ دیا کہ حضرت عائشہ تو اپنا سارا مال لگا دیتی ہیں۔یہ خبر جب حضرت عائشہ کو پہنچی تو آپ نے اپنے گھر میں اُس کا آنا جانا بند کر دیا اور قسم کھائی کہ اگر میں نے اسے اپنے گھر میں آنے کی اجازت دی تو میں اس کا کفارہ ادا کروں گی۔کچھ عرصہ کے بعد صحابہ نے درخواست کی کہ آپ اس کا قصور معاف فرما دیں۔چنانچہ اُن کے زور دینے پر حضرت عائشہ نے اسے معاف کر دیا مگر فرمایا کہ چونکہ میں نے یہ عہد کیا تھا کہ اگر میں اسے معاف کروں گی تو کفارہ ادا کروں گی اس لئے میں اس کا کفارہ یہ قرار دیتی ہوں کہ آئندہ میرے پاس جو دولت بھی آئیگی وہ میں سب کی سب غرباء اور یتامیٰ ومساکین کی بہبودی کے لئے تقسیم کر دیا کرونگی۔۷۸ حضرت عبدالرحمن بن عوف کی اسی طرح صحابہ میں سے حضرت عبد الرحمن بن عوف لاکھوں روپیہ کی جائداد کے مالک تھے کثرتِ مال کے باوجود انتہائی سادہ زندگی چنانچہ جب آپ فوت ہوئے تو اڑھائی لاکھ دینا ر اُن کے گھر سے نکلا 9 کے مگر اتنی دولت رکھنے کے باوجود تاریخ سے ثابت ہے کہ وہ نہایت سادہ زندگی بسر کرتے تھے اور اپنے اموال کا اکثر حصہ غرباء کی ترقی کے لئے خرچ کر دیا کرتے تھے۔۵۰ غرض صحابہ نے مال و دولت کو کبھی ذاتی بڑائی کے حصول کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ ہمیشہ اُسے بنی نوع انسان کی بہبودی کے لئے خرچ کیا ہے۔ایک صحابی کا اپنے تمام قرض معاف کر دینا یہ خوبی صحابہ میں اس قدر نمایاں پائی جاتی تھی کہ اسلامی تاریخ میں ایک مشہور صحابی حضرت قیس کے متعلق جنہیں فتح مکہ کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر کا کمانڈر مقرر فرمایا تھا روایت آتی ہے کہ جب وہ مرض الموت میں مبتلاء ہوئے تو ایک دن انہوں نے اپنے بعض دوستوں سے پوچھا کہ میری بیماری کی خبر تو سب لوگوں میں