سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 900

سیر روحانی — Page 28

۲۸ اور کہتے کہ ہم سے یہ بے حیائی برداشت نہیں ہو سکتی۔کہ ہم کپڑے پہن کر شہر میں داخل ہوں ، ہمارے بھائی بند اور دوست ہمیں دیکھیں گے تو کیا کہیں گے۔مگر انہیں کہا جاتا کہ ننگے جانے کی اجازت نہیں ، کپڑے پہن لو اور چلے جاؤ۔چنانچہ مجبوراً وہ کپڑے پہنتے مگر جب شہر میں سے گزرتے تو ادھر اُدھر کنکھیوں سے دیکھتے بھی جاتے کہ کہیں ان کا کوئی دوست انہیں اس بے حیائی کی حالت میں دیکھ تو نہیں رہا، چنانچہ بڑی مشکل سے وہ شہر میں کچھ وقت گزارتے اور جب شہر سے باہر نکلنے لگتے تو ابھی پچاس ساٹھ قدم کے فاصلہ پر ہی ہوتے تو تہہ بندا تا ر کر زور سے پھینک دیتے اور ننگے بھاگتے ہوئے چلے جاتے۔تو جس چیز کی انسان کو عادت نہیں ہوتی اُس سے وہ گھبراتا ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ میں بھی چونکہ ایسے لوگ تھے جو قانون کی پابندی نہیں کر سکتے تھے اس لئے انہوں نے سطح زمین پر رہنا پسند نہ کیا اور وہ بدستور غاروں میں رہتے رہے۔جنس ایک ہی تھی ، لیکن اس کا ایک حصہ تو سطح زمین پر آ گیا دوسرا سطح زمین پر نہ آیا اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ جس طرح انسانِ کامل باہر رہنے کی وجہ سے آدم نام پانے کا مستحق بنا اسی طرح انسان ناقص غاروں میں رہنے کی وجہ سے جن نام پانے کا مستحق ہوا کیونکہ جن کے معنی پوشیدہ رہنے والے کے ہیں۔پس اُس وقت نسلِ انسانی کے دو نام ہو گئے ایک وہ جو آ دم کہلاتے تھے اور دوسرے وہ جو جن کہلاتے تھے۔آدم کے ساتھ تعلق رکھنے والے جو لوگ تھے اُنہوں نے میدان میں جھونپڑیاں بنا ئیں ، مکانات بنائے اور مل جل کر رہنے لگ گئے۔پس سطح زمین پر رہنے اور سورج کی شعاعوں اور کھلی ہوا میں رہنے سے گندم گوں ہو جانے کی وجہ سے وہ آدم کہلائے ، اسی طرح وہ انسان بھی کہلائے کیونکہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے اُنس کرتے اور متمدن اور مہذب انسانوں کی طرح زمین پر مل جُل کر رہتے اور ایک دوسرے سے تعاون کرتے۔اس کے مقابلہ میں دوسرے لوگ جو گو اسی جنس میں سے تھے مگر چونکہ وہ قربانی کرنے کے لئے تیار نہ ہوئے اور غاروں میں چھپ کر رہے اس لئے وہ جن کہلاتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ عربی زبان میں بعد میں بھی بڑے آدمی جو اندر چُھپ کر رہتے ہیں انہیں جن کہا جانے لگا کیونکہ ان کی ڈیوڑھیوں پر دربان ہوتے ہیں اور ہر شخص آسانی سے اندر نہیں جا سکتا۔اسی طرح غیر اقوام کے افراد کو بھی ”جن“ کہا جاتا ہے چنانچہ قرآن کریم میں صاف الفاظ میں غیر قوموں کے افراد کے لئے بھی جن کا لفظ استعمال کیا گیا ہے مگر چونکہ یہ تفصیل کا وقت نہیں ہے اس لئے میں وہ آیات بیان نہیں کر سکتا ، ورنہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں نے قرآن کریم سے ایسے قطعی اور یقینی ثبوت