سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 900

سیر روحانی — Page 27

۲۷ میں خطرہ ہوسکتا تھا کہ کوئی شیر یا چیتا حملہ کرے اور انسانوں کو پھاڑ دے اس لئے وہ آسانی کے ساتھ سطح زمین پر رہنے کو برداشت نہیں کر سکتے تھے وہ تبھی سطح زمین پر رہنا برداشت کر سکتے تھے جب کہ بہت سے آدمی ایک جگہ اکٹھے ہوں اور وہ متحدہ طاقت سے خطرہ کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوں مگر یہ صورت اُسی وقت ہو سکتی تھی جب انسانوں میں اکٹھا ر ہنے کی عادت ہو اور وہ ایک قانون اور نظام کے پابند ہوں۔جب تک وہ ایک نظام کے عادی نہ ہوں ، اُس وقت تک اکٹھے کس طرح رہ سکتے تھے۔پس اُس وقت آدم اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم آئندہ غاروں میں نہیں رہیں گے بلکہ کھلے مکانوں میں رہیں گے اور چونکہ انہوں نے با ہر سطح زمین پر رہنے کا فیصلہ کیا اس لئے ان کا نام آدم ہو اچھنے سطح زمین پر رہنے والے۔اور کھلی ہوا میں رہنے کا یہ لازمی نتیجہ ہو ا کہ ان کا رنگ گندمی ہو گیا۔پس آدم اس کا نام اس لئے رکھا گیا کہ وہ کھلی زمین میں مکان بنا کر رہنے لگا اور کھلی زمین پر رہنے کے سبب سے اس کا جسم گندمی رنگ کا ہو گیا جیسا کہ سورج کی شعائیں پڑنے سے ہو جاتا ہے اور ادیم اور اُڈرمہ جو لفظ آدم کے مادے ہیں ان دونوں کا مفہوم بھی ایک ہی ہے یعنی کھلی ہوا اور زمین پر رہنے کی وجہ سے اس کے رنگ پر اثر پڑا۔زمانہ آدم کی تمدنی حالت اس آدم کے زمانہ میں لازم ابشری دور اول کے زمانہ کے بھی کچھ لوگ تھے جو تمدنی قوانین کی برداشت نہیں کر سکتے تھے اور لا ز ما وہ سطح زمین پر سہولت سے نہیں رہ سکتے تھے کیونکہ جو طاقت مجموعی طاقت سے مل سکتی ہے اور جو انسان کو کھلے میدانوں میں رہنے میں مدد دیتی ہے وہ انہیں حاصل نہ تھی پس وہ غاروں میں رہتے تھے جیسا کہ جانور وغیرہ رہتے ہیں اور چونکہ ان میں تمدن نہ تھا ان کے لئے کوئی قانون بھی نہ تھا۔حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ میں جب یہ فیصلہ کیا گیا کہ لوگ سطح زمین پر رہیں اور غاروں میں رہنا چھوڑ دیں۔تو وہ لوگ جو سطح زمین پر نہیں رہنا چاہتے تھے انہوں نے آپ کی مخالفت کی جیسے افریقہ کے حبشی پہلے ننگے رہا کرتے تھے۔شروع شروع میں جب انگریزی آئے ہیں تو انہوں نے کوشش کی کہ حبشیوں کو کپڑے پہنائے جائیں۔چنانچہ انہوں نے شہر کے دروازوں پر آدمی مقرر کر دیئے اور انہیں کپڑے دے کر حکم دیدیا کہ جب کوئی حبشی شہر کے اندر داخل ہونا چاہے تو اُسے کہا جائے کہ وہ ننگا شہر میں داخل نہ ہو بلکہ تہہ بند باندھ کر اندر جائے۔چونکہ وہ ہمیشہ ننگے رہتے چلے آئے تھے اور کپڑے پہنے کی انہیں عادت نہ تھی اس لئے وہ بڑے لڑتے