سیر روحانی — Page 477
۴۷۷ حیران رہ گیا کہ وہ شخص جس کا میں اس قدر دشمن ہوں آج میرے مکان پر چل کر آ گیا ہے۔اُس نے پوچھا آپ کس طرح آئے ہیں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اس شخص کا کوئی روپیہ دینا ہے؟ اس نے کہا ہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر دے دو۔ابو جہل خاموشی سے اندر گیا اور روپیہ لا کر اس کے حوالے کر دیا۔۴ے قدرت کا ایک عجیب نشان جب یہ خبر ملکہ میں مشہور ہوئی تو لوگوں نے ابو جہل کا مذاق اُڑانا شروع کر دیا کہ تم تو کہتے تھے کہ محمد ( صلے اللہ علیہ وسلم ) کو جتنا دُ کھ دیا جائے اتنا ہی اچھا ہے اور خود اُن سے اتنا ڈر گئے کہ اُن کے کہتے ہی چُپ کر کے روپیہ لا کر دیدیا۔ابو جہل کہنے لگا تم نہیں جانتے جب میں نے دروازہ کھولا تو مجھے ایسا معلوم ہوا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے دائیں اور بائیں دو دیوانے اونٹ کھڑے ہیں اور اگر میں نے ذرا بھی انکار کیا تو وہ مجھے نوچ کر کھا جائینگے۔۵ کے غرض ایک غریب کا حق دلوانے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈالنے سے بھی دریغ نہ کیا اور اس طرح اپنے عمل سے بتا دیا کہ انسان کے اندر غرباء کی امداد کا کس قدر احساس ہونا چاہئے۔صدقہ کا ایک دینا ر تقسیم نہ ہونے اسی طرح ایک دفعہ صدقات کا کچھ روپیہ آیا تو اُن کو تقسیم کرتے ہوئے ایک دینار کسی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گھبراہٹ کونے میں گر گیا اورآپ کو اٹھانے کا خیال نہ رہا۔نماز پڑھانے کے بعد آپ کو یاد آیا تو لوگوں کے اوپر سے پھاندتے ہوئے آپ جلدی سے اندر تشریف لے گئے۔صحابہ حیران ہوئے کہ آج کیا بات ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی گھبراہٹ میں گھر تشریف لے گئے ہیں۔جب آپ واپس آئے تو آپ نے فرما یا صدقہ کا ایک دینا ر گھر میں رہ گیا تھا میں نے چاہا کہ جس قدر جلدی ممکن ہو اسے غرباء میں تقسیم کر دوں۔۶ کے حضرت عائشہ کی سخاوت اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا گو خود نہیں کماتی تھیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور آپ کے تعلق کی وجہ سے صحابہ آپ کی خدمت میں اکثر ھدایا بھجواتے رہتے تھے لیکن وہ بھی اپنا اکثر روپیہ غرباء اور مساکین میں تقسیم فرما دیا کرتی تھیں۔تاریخ سے ثابت ہے کہ بعض دفعہ ایک ایک دن میں ہزار ہا روپیہ آپ کے پاس آیا مگر آپ نے وہ سب کا سب شام تک تقسیم کر دیا